فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا غزہ میں حماس کے پانچ اہم ذمہ داروں کی گرفتاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں الشفا ہسپتال کمپلیکس میں جاری آپریشن میں "حماس کے کئی اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا اور 140 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے"۔

فوج نے بیان میں وضاحت کی کہ "گرفتار عسکریت پسندوں کو پوچھ گچھ کے لیے جنرل سکیورٹی سروس میں منتقل کر دیا گیا، جب کہ فوج الشفاء ہسپتال کمپلیکس میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "بہت سے ہتھیار اور دستاویزات بھی ملی ہیں۔" انہوں نے وضاحت کی کہ "ملٹری انٹیلی جنس اور داخلی سلامتی کی ذمہ دار ایجنسی (شن بیٹ) کی معلومات کی بنیاد پراسرائیلی فوج نے حماس کے سینیر عہدیداروں کا تعاقب کرنے کے لیے اپنے ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔ انہوں نے ہسپتال کے احاطے میں اپنی پوزیشنیں دوبارہ حاصل کر لی تھیں"۔

فوج نے تصدیق کی کہ "آپریشن کے دوران 600 عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جن میں حماس اور اسلامی جہاد تحریک کے سینیر اہلکار بھی شامل ہیں، جو نہ صرف غزہ کی پٹی بلکہ مغربی کنارے میں بھی سرگرمیوں کی ہدایت دے رہے تھے۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''حالیہ گرفتاریوں میں حماس کے سرکردہ رہ نما شامل ہیں جن میں عمرو عزیدہ جو مغربی کنارے میں نابلس کے علاقے میں تحریک کی سرگرمیوں کا سربراہ اور محمود القواسمی جس نے 2014 میں تین لڑکوں کے اغوا کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کی تھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تیسرا حمد اللہ حسن علی ہے جو امریکہ میں دشمنانہ سرگرمیوں کو فروغ دے رہا تھا کو گرفتارکیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے شمالی غزہ شہر میں الشفا میڈیکل کمپلیکس اور اس کے گردونواح میں "140 سے زائد فلسطینی جنگجوؤں" کو ہلاک کر دیا ہے، جس پر اس نے ٹینکوں سے گھیرا ڈالنے کے بعد پیر کی صبح دھاوا بول دیا تھا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر، سعودی عرب، قطر، امارات، اردن اور فلسطینی اتھارٹی پر مشتمل چھ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس کل جمعرات کو قاہرہ میں ہوا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں اورمعاہدہ بہت ممکن ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں