فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کو قحط سے بچانے کے لیے زمینی راستے کھولنا ہی واحد حل ہے: عالمی ادارہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے جمعرات کے روز ایک بار پھر غزہ کے مسلسل جاری اسرائیلی محاصرے اور امدادی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے ماحول میں زور دیا ہے کہ 24 لاکھ کی آبادی کو قحط سے بچانے کے لیے زمینی راستے کھولنا ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے مختلف ادارے چھ ماہ سے جاری جنگ اور اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث قحط سے خبردار کر رہے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے اب تک 27 فلسطینیوں کی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر عوام میں رد عمل بڑھنے کے سبب کئی ملکوں نے فضائی اور بحری راستوں سے امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل کی کوششیں شروع کی ہیں۔

امریکہ بھی ان ملکوں میں اب شامل ہو گیا ہے۔ بحری راستے سے غزہ تک رسائی کی امریکی کوشش خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ زمینی راستے سے امدادی سامان کی فراہمی کے حامی ماہرین فضائی راستے سے امداد گرانے کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھتے ہیں کہ فضا سے بہت ہی تھوڑی امداد پہنچانا ممکن ہو سکتا ہے، نیز اس طرح سے بالواسطہ طور پر اسرائیلی ناکہ بندی جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے ۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایدھانوم غیبرئیس نے بحری راستے سے امدادی سامان کی غزہ منتقلی کے اقدام اور کوششوں کی تعریف کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بھی کہہ دیا ہے غزہ میں بے گھر اور بھوک سے مرنے کے خطرے سے دوچار فلسطینیوں کو قحط سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ زمینی راستے کھولنا ہی مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں