فلسطین اسرائیل تنازع

چار سال پہلے یہودیت اختیار کرنے والا فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے ٍ یہودی مذہب قبول کر لینے والے فلسطینی شہری کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعی مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعرات کے روز پیش آیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس بارے میں کہا ہے کہ فوج نے ایک مشتبہ شخص کو قتل کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

یہودی کمیونٹی کے مغربی کنارے میں ترجمان ناؤم ارنون نے کہا ' آج صبح ڈیڈ بین ابراہم کی زندگی المناک طریقے سے ختم ہو گئی ہے۔' یہودی کمیونٹی کے ترجمان نے اس امر کا اعلان ایک نیوز ویب سائٹ پر کیا ہے۔

ترجمان نے بتایا 62 سالہ سامح زیتون نے 2020 میں یہودی مذہب قبول کر لیا تھا۔ اس کا عبرانی نام ڈیڈ بین ابراہم رکھا گیا تھا۔ وہ ایک دوست تھا۔' جمعرات کی صبح اسے الخلیل اور یروشلم کے درمیانی مغربی کنارے میں ایک سپاہی نے پراسرار طریقے سے زخمی حالت میں پایا۔ بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔'

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی طرف سے کہا گیا ہے' الخلیل اور یروشلم کے درمیانی علاقے ایلازار جنکشن پر ایک فلسطینی مشتبہ انداز میں سامنے آیا تو سپاہیوں نے اس پر فائرنگ کر دی۔' دلچسپ بات ہے کہ فوج کی طرف سے اس مرنے والی کی شناخت نہیں بتائی گئی۔ البتہ واقعے کی ملٹری پولیس کی طرف سے تحقیقات شروع کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے کسی بھی تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مرنے والے نئے یہودی نے کچھ عرصہ پہلے میڈیا کے توسط سے بتایا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے اسے یہودی مذہب قبول کرنے کے باعث حراست میں لیا تھا۔

سات اکتوبر سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 444 فسطینیوں کو اسرائیلی فوج، پولیس اور یہودی آباد کاروں نے قتل کر دیا ہے۔ پچھلے چوبیس سے چھتیس گھنٹوں کے دوران اس نئے ییہودی کے قتل سمیت آٹھ فلسطینیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں