ہزاروں اسرائیلیوں کی بیت المقدس میں حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دعائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ اور دوسرے ہزاروں اسرائیلی یروشلم کی مغربی دیوار کے قریب دعاؤں کے لیے جمع ہوئے۔ ان سب کی دعا تھی کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس ان کے یرغمال بنائے عزیزوں کو رہائی دے دے۔

راچل گولڈبرگ ایک یرغمالی کی والدہ ہیں انہوں نے اس موقع پر کہا 'وہ 167 دن گذرنے کے باوجود ابھی تک محسوس نہیں کرتی کہ اس کے بیٹے کو قید میں اتنا عرصہ ہو گیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں یہودی ایک مقدس دیوار کے ساتھ خصوصی یہودی دعاؤں کے لیے کھڑے ہیں تاکہ 130 یرغمالی بھی حماس کی قید سے چھوٹ جائیں۔ جن میں ان کا 23 سالہ بیٹا ہرش گولڈ برگ بھی شامل ہو۔

اس موقع پر گولڈ برگ نے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا 'ہم کبھی یہ تصور نہیں کر سکتے ہیں جس کیفیت سے آپ قید میں گزر رہے ہیں اور آپ قید میں ہوتے ہوئے یہ نہیں سوچ سکتے کہ ہمارے اوپر اس آزادی میں کیا بیت رہی ہے۔' اس دوران گولڈ برگ کے شوہر جوناتھن پولین بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔

دونوں نے اپنے سینوں پر 167 کی تحریر والی بیلٹ سی باندھ رکھی تھی۔ اس پٹی سے وہ ظاہر کررہے تھے کہ ان کے بیٹے کی غزہ میں قید کو 167 دن گزر گئے ہیں۔

واضح رہے گولڈ برگ پولین کو نووا سے سات اکتوبر کو موسیقی کے میلے سے اٹھایا گیا تھا۔ جہاں متعدد اسرائیلی مارے بھی گئے تھے۔ ان 167 دنوں کے دوران یرغمالیوں کے خاندانوں نے مسلسل اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حماس کے ساتھ معاہدہ کر کے ان کے پیاروں کو رہا کرایا جائے مگر نیتن یاہو کی حکومت کی ترجیحات سیاسی ہیں اس لیے ان خاندانوں کے پیاروں کو خطرے میں ڈال کر اپنی سیاست کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں۔

یرغمالیوں کے خاندان سڑکوں پر اور پارلیمنٹ کے باہر سخت احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن نیتن یاہو حکومت کو قائل نہیں کر سکے ہیں۔ اب ان متاثرہ خاندانوں نے یروشلم میں دعاؤں کے لیے ہزاروں اسرائیلیوں کو جمع کیا تاکہ ان کی دعائیں سنی جائیں۔ شرکائے دعا میں شامل شائی طوہر نے کہا 'آج سب یرغمالیوں کے لیے یہ اتنے سارے لوگ جمع ہیں اور دعا کر رہے ہیں۔ ظوہر ایک 22 سالہ یرغمالی اومر نیوٹرا کے انکل ہیں'

دعا کے لیے جمع بہت سے لوگوں نے یرغمالیوں کی تصویروں والی شرٹس پہن رکھی تھیں اور یہ لوگ دیوار کے اپس موجود ہجوم میں بطور خاص شامل تھے۔ ان میں سے کئی یرغمالیوں کے رشتہ دار، دوست اور جاننے والے تھے۔ کئی یہودی اسرائیل سے باہر سے آکر بھی اس دعائیہ ہجوم میں موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں