اسرائیلی فوج کا الشفاء ہسپتال پر حملہ، پانچ مریض علاج کے بغیر دم توڑ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الشفاء ہسپتال غزہ میں اسرائیلی فوج کے مسلسل چھٹے روز سے جاری آپریشن کے دوران علاج معالجے کی سہولیات تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔ جس کے نتیجے میں پانچ زخمی مریضوں کا ہفتہ کے روز انتقال ہوگیا ہے۔ یہ بات وزارت صحت غزہ نے ایک بیان میں بتائی ہے۔

الشفاء ہسپتال غزہ پر اسرائیلی فوج کا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے جو پچھلے تقریباً چھ دنوں سے جاری ہے۔ اس سے پہلے ماہ نومبر 2023 میں اسرائیلی فوج نے الشفاء ہسپتال پر حملہ کیا تھا۔ ہسپتال کے اندر اور باہر ہر جگہ فوج کی کارروائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے ٹینکوں کی مدد سے ہسپتال سمیت پورے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔

فوجی حملے کی وجہ سے الشفاء ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ پانی و خوراک تک کی شدید قلت ہے۔ جبکہ وقفے وقفے سے اسرائیلی فوج کی فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ہفتہ ہی کے روز اعلان کیا ہے کہ اس حملے کے دوران 170 بندوق برداروں کو ہلاک کر چکی ہیں۔ دوسری جانب القسام بریگیڈز اور اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ ان کے لوگ ہسپتال کے باہر اسرائیلی فوج کے ساتھ مزاحمت میں مصروف ہیں۔

تاہم حماس اس امر کی تردید کر رہی ہے کہ اس کے لوگ ہسپتال میں موجود ہیں اور ہسپتال کا کنٹرول حماس ہی کے پاس ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے الشفاء ہسپتال پر پیر کو سحری کے قریبی اوقات میں اچانک ہلہ بول دیا تھا۔ سب سے پہلے الشفاء ہسپتال پر بمباری کی گئی۔ اس کے بعد زمینی فوج نے محاصرہ تنگ کرتے ہوئے ہسپتال پر چڑھائی کر دی۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس ہسپتال کے اندر موجود ہے اور ہسپتال کو حماس اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ حماس ان الزامات کی آج بھی تردید کرتی ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق ان چھ دنوں کے دوران اب تک دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں