اقوامِ متحدہ کے سربراہ غزہ کی سرحد کا دورہ کریں گے جبکہ اسرائیل کا رفح پر حملے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ہفتے کے روز غزہ کے ساتھ مصر کی سرحد کا دورہ کریں گے جب اسرائیل نے کہا کہ وہ امریکی حمایت کے بغیر بھی حماس کے قریبی شہر رفح میں لڑنے کے لیے فوج بھیجے گا۔

اپنے دورے کے دوران گوتریس انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ بار بار کا بین الاقوامی دباؤ اب تک اسرائیل کو رفح میں طے شدہ زمینی حملے سے باز رکھنے میں ناکام رہا ہے جہاں غزہ کی زیادہ تر آبادی پناہ گزین ہے۔

ان انتباہات کے باوجود کہ اس طرح کے حملے سے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوں گی اور علاقے میں انسانی بحران مزید بڑھ جائے گا، اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ انہیں اس حملے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

نیتن یاہو نے جمعہ کے روز دورہ پر آنے والے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن سے کہا، "میں امریکہ کی حمایت سے ایسا کرنے کی امید کرتا ہوں لیکن اگر ضرورت پڑی تو ہم یہ تنہا ہی کریں گے۔"

تقریباً چھ ماہ کی لڑائی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیزی سے مایوسی کا شکار ہو گئی ہیں جبکہ حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے جمعہ تک غزہ میں 32,070 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پوری آبادی قحط کے دہانے پر پہنچ رہی ہے۔

وزارت نے ہفتے کی صبح رات بھر مزید 67 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی جن میں غزہ شہر کے شمال میں ایک خاندانی گھر پر حملے میں ہلاک شدہ 10 افراد بھی شامل ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (اونروا) کے سربراہ فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "یہ انسانی ساختہ تباہی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی اور "غزہ کو خوراک + زندگی بچانے والے سامان کی بھرپور فراہمی" ہی واحد حل تھا۔

"فوری" جنگ بندی کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرارداد کی تازہ ترین پیش رفت جمعہ کو ناکام ہوگئی کیونکہ چین اور روس نے امریکی تجویز کو ویٹو کردیا جس کی عرب حکومتوں نے شکایت کی تھی کہ وہ بہت کمزور تھی۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی کے نئے متن پر ووٹنگ جو ابتدائی طور پر ہفتے کے لیے طے شدہ تھی، مزید بات چیت کی اجازت دینے کے لیے اسے پیر تک ملتوی کر دیا جائے گا۔

دریں اثناء تشدد کا سلسلہ جاری ہے بالخصوص غزہ کے سب سے بڑے الشفاء ہسپتال کمپلیکس کے ارد گرد جہاں اسرائیلی فورسز نے جمعہ کے روز 150 سے زائد فلسطینی مزاجمت کاروں کو ہلاک اور سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جمعہ کو جنوبی شہر خان یونس میں بربخ خاندان کے لیے ایک جنازے میں لواحقین نے بظاہر نہ ختم ہونے والے نقصانات بیان کیے۔

ترکیہ بربخ نے کہا کہ "ہر روز ہم کسی عزیز کا ماتم کرتے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں میرا بھتیجا فوت ہو گیا اور اب میری بہن، اس کا شوہر اور بچے۔ تقریباً پورا خاندان ہلاک ہو چکا ہے۔"

"ہم کب تک یہ برداشت کریں گے؟"

ہفتے کے روز اقوامِ متحدہ کے سربراہ گوٹیرس نے رفح کے مصری جانب امدادی کارکنوں سے ملاقات کرنے کا ارادہ کیا ہے جو غزہ شہر سے سرحد کے بالکل دوسری طرف ہے اور جہاں 1.5 ملین فلسطینی پناہ گزین ہیں۔

یہ شہر جمعے کو تل ابیب میں نیتن یاہو اور بلنکن کے درمیان اختلاف کا موضوع بنا تھا۔

نیتن یاہو نے کہا، "ہمارے پاس رفح میں داخل ہونے اور وہاں رہ جانے والی بٹالین کو ختم کیے بغیر حماس کو شکست دینے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔"

اس کے بعد بلنکن نے کہا کہ رفح پر حملہ "اس مقصد کو حاصل کرنے کا راستہ" نہیں تھا۔

اعلیٰ امریکی سفارت کار نے ملاقات کے بعد ایکس پر لکھا، "ہمارے اسرائیل جیسے ہی مقاصد ہیں: حماس کی شکست۔ اگلے ہفتے میں واشنگٹن میں اسرائیلی حکام سے دوبارہ ملاقات کروں گا تاکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے ایک مختلف طریقے پر بات چیت کی جائے۔"

بائیڈن اور نیتن یاہو انتظامیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتے ہوئے اسرائیل نے بلنکن کے دورے کے دن ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں 800 ہیکٹر (1,980 ایکڑ) اراضی پر قبضے کا اعلان کیا۔

یکے بعد دیگرے اسرائیلی حکومتیں مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور مشرقی یروشلم کو ضم کرنے میں تیزی لائی ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

پیس ناؤ نے کہا کہ جمعہ کے روز اعلان کردہ زمین پر قبضہ 1990 کے عشرے میں اسرائیل-فلسطینی اوسلو معاہدے کے بعد سب سے بڑا قبضہ تھا۔

بلنکن نے کہا، "آپ آبادکاری کی توسیع کے بارے میں ہمارے خیالات سے واقف ہیں۔ کسی کے بھی کوئی ایسا قدم اٹھانے سے ہمیں مسئلہ ہوتا ہے جو چیزوں کو مزید مشکل اور وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ چیلنجنگ بنا دے۔"

بلنکن نے جمعہ کو اقوامِ متحدہ کی ناکام قرارداد پر مایوسی کا اظہار کیا جو قطر میں جنگ بندی مذاکرات کی حمایت کے لیے خطے کے ایک مختصر مدتی دورے پر تھے جس کے دوران انہیں کئی جگہوں کا دورہ کرنا تھا۔

انہوں نے چین اور روس پر الزام لگایا کہ وہ کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر اپنے ویٹو کا استعمال کر رہے تھے جبکہ حماس نے "تعریف" کا اظہار کیا۔

نیویارک میں سفارت کاروں کے درمیان جھگڑے کے دوران اسرائیل کے جاسوسی کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز اور قطری اور مصری حکام کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے قطر روانہ ہو گئے۔

ثالثین کا مقصد اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ کے مزاحمت کاروں کے زیرِ حراست اسرائیلیوں کی رہائی اور مزید امدادی سامان کی ترسیل کا معاہدہ طے کرنا ہے۔

'بھوک بطور جنگی طریقہ کار'

اپنی انتقامی مہم کے آغاز سے اسرائیل نے غزہ پر تقریباً مکمل ناکہ بندی عائد کر دی ہے جس سے انسانی امداد کی روانی بہت زیادہ محدود ہو گئی ہے جو بنیادی طور پر مصر سے رفح کے راستے پہنچتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ان سخت پابندیوں نے امداد کی ترسیل کو بمشکل ہی باقی رہنے دیا ہے۔

اونروا چیف لازارینی نے کہا، "سات اکتوبر سے پہلے اوسطاً 500 سے 700 ٹرک روزانہ غزہ میں داخل ہوتے تھے۔ آج اوسط بمشکل 150 ہے۔"

قحط کے سنگین انتباہات تقریباً روزانہ جاری کیے جاتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس ہفتے کے اوائل میں اسرائیل پر تنازعات کو اس طریقے سے چلانے کا الزام لگایا جو "بھوک کو جنگی طریقۂ کار کے طور پر استعمال کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے"۔

اسرائیل نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔

قلت دور کرنے کی کوشش میں کئی ممالک نے خورونوش کی اشیاء فضا سے گرائی ہیں اور قبرص سے غزہ تک سمندری راہداری کھول دی ہے۔ لیکن یہ امداد غزہ کے 2.4 ملین باشندوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور ناکافی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں