حماس رہ نماؤں کی جلاوطنی کی شرط پر حملوں کا نشانہ نہ بنانے پر اسرائیلی غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اپنے نشریئے میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل حماس کی اس درخواست پر غور کر رہا ہے کہ اگر وہ تحریک کے اعلیٰ عہدیداروں کو غزہ کی پٹی سے باہر جلا وطن کر دیتے ہیں تو انہیں قتل نہ کیا جائے۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ یہ تجویز ایک معاہدے کی صورت میں پیش کر رہی ہے جس میں اس کے بدلے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائی روکنے، تمام مغویوں کی رہائی، فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلاء شامل ہے۔

یہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کی واپسی ، تمام مغوی افراد کی رہائی اور پٹی سے فوجی دستوں کے انخلاء کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے، جو کہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ ایک تجویز ہے جس پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے چھ ہفتے کی جنگ بندی کے بدلے 40 یرغمالیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کے اگلے مرحلے کے حصے کے طور پر اس تجویز کو آگے بڑھایا ہے۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حکومت ایک پیشکش پر غور کرہی ہے۔ جس میں "جلا وطن ہونے والے اعلیٰ حکام پر حملہ نہ کرنے کا عہد بھی شامل ہے"۔

قبل ازیں موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا، شن بیٹ کے سربراہ رونن بار اور اسرائیلی فوج کے مندوب نطزان ایلون قطری دارالحکومت پہنچے۔ تینوں نے گذشتہ رات ثالثوں کے ساتھ اپنی ملاقاتیں شروع کیں۔اس تجویز پرآج ہفتے کو غورکیاجائے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی مسودہ قرارداد پر ووٹنگ جس میں غزہ میں "فوری" جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسے پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔

جمعہ کے روز روس اور چین نے سلامتی کونسل میں اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے ایک امریکی مسودہ قرارداد کو مسترد کر دیا جس میں واشنگٹن نے پہلی بار حماس کے حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں زیر حراست قیدیوں کی رہائی سے منسلک غزہ میں "فوری" جنگ بندی کی حمایت کی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے اتحادی امریکہ نے تین بار اپنے ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے کونسل میں جنگ بندی کے مطالبے کی قراردادوں کے مسودے کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں