غزہ میں کینسر کے مریضوں کا خدشہ، اسرائیل انہیں واپس بارودی جہنم میں دھکیل رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مشرقی بیت المقدس میں آگسٹا وکٹوریہ ہسپتال کے قریب ایک چھوٹے سے ہوٹل میں فلسطینی رم ابو عبیدہ بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں۔ انہیں اسی ہسپتال میں چھاتی کے کینسر کے لیے ریڈی ایشن تھراپی سےگذرنا پڑا ہے۔ وہ فلسطینی مریضوں کے ایک ایسے گروپ میں شامل ہیں جن کے بارے میں ایک اعلیٰ اسرائیلی عدالت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کیا اب ان کا علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں جنگ زدہ غزہ واپس بھیج دیا جائے۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے درجنوں شہریوں کی طرح، انہیں دیکھ بھال کے لیے علاقہ چھوڑنے کی اجازت دی گئی تھی کیونکہ غزہ کے ہسپتالوں میں ضروری سہولتیں نہیں تھیں۔ لیکن اس ہفتے، انہیں اچانک بتایا گیا کہ اب غزہ واپس جانا ہے۔

ابو عبیدہ کہتی ہیں' یہ ہمیں جہنم میں، موت کی طرف بھیج رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' جنوبی غزہ کے خان یونس میں اس کا گھر حماس کے خلاف اسرائیلی حملے میں تباہ ہو گیا ہے۔'

غزہ سے تعلق رکھنے والے کینسر کے تقریباً 20 مریض ہیں جو کینسر سے لڑ رہے ہیں، یہ سب مریض گزشتہ چھ ماہ سے تل ابیب اور مشرقی یروشلم میں زیر علاج ہیں۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک ذیلی ادارے کا ان مریضوں کے بارے میں کہنا ہے میں سے اب کسی مریض کو مسلسل طبی علاج کی ضرورت نہیں ہے،اس لیے انہیں غزہ کی پٹی واپس بھیجا جا رہا ہے۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے 'فزیشنز فار ہیومن رائٹس' کی درخواست پر آخری لمحات میں اس حکم کو معطل کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے پاس اپنے دلائل داخل کرنے کے لیے 21 اپریل تک کا وقت ہے۔ توقع ہے کہ عدالت اس کیس میں فیصلہ سنائے گی۔

ابو عبیدہ کے ساتھ والے کمرے میں منال ابو شعبان مقیم ہیں۔ ابو عبیدہ کی طرح چھاتی کے کینسر کی مریضہ ابو شعبان واپس غزہ جانے کی مخالف نہیں، لیکن وہ جانتی ہیں کہ سیکورٹی کی صورتحال کا مطلب ہے کہ وہ زیر محاصرہ غزہ شہر میں اپنے گھر تک نہیں پہنچ سکیں گی۔

مجھے واپس جانے پر اعتراض نہیں۔ لیکن مجھے میرے گھر بھیجا جائے ، رفح میں نہیں۔ رفح میں تو میرا جاننے والا بھی کوئی نہیں ہے۔۔

شمالی غزہ کا بڑا حصہ اسرائیلی بمباری سے ملنے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے کو مئی تک قحط کا سامنا کرنا ہو گا جب تک کہ وافر خوراک اس علاقے میں نہ پہنچائی جائے۔

غزہ کے ان مریضوں کی قسمت کے بارے میں پوچھے جانے پر 'آگسٹا وکٹوریہ ہسپتال' کے ڈائریکٹر فادی میزید نے کچھ لمحوں توقف کے ساتھ توقف کہا 'نہیں جانتا یہ مریض واپس اسی علاقے میں واپس جائیں جو ایک جنگی علاقے میں بدل چکا ہے۔ یا کہیں اور بھیجے جائیں گے۔'

غزہ کی صورتحال ناقابل بیان ہے، جس میں صحت کی دیکھ بھال کی کوئی ضمانت نہیں ہے جو کینسر کے مریضوں کے لیے ضروری کام کر سکتی ہے۔ اس لیے ہم نہیں نے کہا کہ یہ کرنا صحیح ہے۔

فادی میزید کے مطابق اس بارے میں مریضوں میں ایک رائے نہیں پائی جاتی ایک طرف وہ اپنے خاندانوں کو دیکھنے اور اپنے خاندان افراد کے قریب رہنے کے لیے واپس جانا چاہتے ہیں، چاہے حالات کتنے ہی ناقابل تصور ہوں اور دوسری جانب انہیں خوف ہے کہ انہیں جنگ کے ساتھ ساتھ کینسر کا بھی مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ تو دوہرا خطرہ مول لینے والی بات ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں