پہلے کی طرح امریکی مدد جاری نہ بھی رہی تو رفح پر اسرائیلی حملہ لازمی ہو گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے ازلی اتحادی امریکہ کو باور کرا دیا ہے کہ اگر امریکہ کے لیے رفح پر حملے کے لیے پہلے پانچ ماہ جیسی مدد اور حمایت جاری رکھنا ممکن نہ بھی رہا تو اسرائیل یہ حملہ اکیلے ہی کامیاب بنانے کی کوشش کرے گا۔

یہ بات ایک بیان میں کہی گئی ہے جو نیتن یاہو کے دفتر نے جاری کیا ہے۔ بیان وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ تازہ کے ساتھ تازہ 'انٹر ایکشن' کے بعد سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل رفح پر ہر قیمت حملہ کرنے کے لیے واضح ہے۔

واضح رہے رفح میں اس وقت غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی نے نقل مکانی کر کے پناہ لے رکھی ہے۔ اس انتہائی گنجان آبادی پر حملہ اسرائیلی جنگی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ مگر امریکہ جس نے پچھلے پانچ ماہ کے دوران اسرائیل کی بھر پور مدد کی ہے اب جزوی اختلاف کا شکار ہے۔

نیتن یاہو اسی پس منظر میں کہا ہے اب کی بار امریکی امدد اور حمایت نہ بھی ملی تو اسرائیل یہ حملہ ضرور کرے گا۔ کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ رفح پر حملے کے بغیر حماس کو شکست دینے کی کوئی صورت ہی ممکن نہیں ہے۔

جاری کردہ بیان میں نتین یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے انٹونی بلنکن کو یہ باور کرا دیا ہے۔ اب ہم امریکہ کے بغیر اکیلے بھی حماس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا چھٹا ماہ جاری ہے اور اب تک 32070 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 15 لاکھ کے قریب کی اس وقت کی رفح کی آبادی پر جنگ مسلط کرنا ایک نئی انسانی تباہی کا خطرہ بنے گا، کیونکہ رفح میں قیام کرنے والے پناہ گزینوں کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں