اسرائیلی فوج نے الشفاء ہسپتال غزہ میں فوجی کارروائی میں توسیع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال 'الشفاء' پر دوسرے بڑے فوجی حملے کے چھٹے روز اعلان کیا ہے کہ ہسپتال پر حملے کی یہ کارروائی فی الحال ختم نہیں کی جا رہی ہے۔ یہ فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری جنگجو ہماری دسترس میں نہیں آجاتا۔ اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی پچھلے ہفتے پیر کے روز شروع کی تھی۔

یہ اعلان اسرائیلی فوج نے ایسے وقت میں کیا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل غزہ کی سرحد پر آئے اور انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا اپنا دیرینہ مطالبہ دہرایا۔ واضح رہے ہسپتالوں پر حملے اسرائیلی جنگ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے اب یہ الشفاء ہسپتال بھی پچھلے سات دنوں سے آتشین فوجی کارروائیوں کا نشانہ ہے۔ جہاں پر اسرائیلی فوج بےدریغ قتل عام کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہاں سے 350 جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے جبکہ 170 کو ہلاک کر چکا ہے۔ خیال رہے الشفاء ہسپتال کے کمپاؤنڈ میں زخمیوں اور مریضوں کے علاوہ مقامی طور پر بےگھر فلسطینی بھی پناہ لیے ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج ان میں سے ہر ایک کو مشتبہ جنگجو سمجھتی ہے۔

اسرائیلی جنوبی کمانڈ کے سربراہ جنرل یارون فلنکل مین کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے 'ہم ہسپتال میں جنگی کارروائی اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک آخری دہشت گرد زندہ یا مردہ حالت میں ہمارے ہاتھوں میں نہیں آ جاتا۔ جنرل یارون نے اس جمعہ کے روز ہسپتال پر حملہ میں شریک فوجیوں سے ہسپتال میں ملاقات کی اور تعینات دستوں کا حوصلہ بڑھایا۔

اسرائیلی فوج نے الشفاء ہسپتال پر حملے کے چھٹے روز یہ بھی اعلان کیا ہے کہ 'ہسپتال میں داخل زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال کے ایک حصے میں منتقل کر دیا ہے۔' جبکہ باقی سارا ہسپتال زخمیوں اور مریضوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

فوجی بیان کے ساتھ جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ فوجی ہسپتال میں لائے جانے والے اسلحہ کو اتار رہے ہیں اور ہسپتال میں لگے بستروں کی ایک قطار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فوجیوں کی ہسپتال میں ضروریات کے لیے دو ٹن خوراک اور تین ٹن پانی جمع کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ طبی آلات بھی فوج کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں