غزہ کے مزید دو ہسپتالوں کا اسرائیلی محاصرہ، فلسطینیوں کے انخلاء کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی صلیبِ احمر نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز شدید گولہ باری کےدوران طبی ٹیموں کو گھیرے میں لے کر غزہ کے مزید دو ہسپتالوں کا محاصرہ کر لیا اور اسرائیل نے کہا کہ اس نے غزہ کے مرکزی الشفاء اسپتال میں جاری جھڑپوں میں 480 مزاحمت کاروں کو پکڑ لیا۔

اسرائیلی افواج کہتی ہیں کہ فلسطینی انکلیو کے ہسپتال جہاں پانچ ماہ سے زائد عرصے سے جنگ جاری ہے، اکثر حماس کے ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے گڑھ کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ حماس اور طبی عملہ اس کی تردید کرتا ہے۔

فلسطینی ہلالِ احمر نے کہا کہ اس کا ایک عملہ اس وقت مارا گیا جب اسرائیلی ٹینکوں نے شدید بمباری اور گولہ باری کے درمیان جنوبی شہر خان یونس میں العمل اور النصر ہسپتالوں کے ارد گرد کے علاقوں میں اچانک کارروائی کی۔

ہلالِ احمر نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی بکتر بند افواج نے العمل ہسپتال کو سیل کر دیا اور اس کے اطراف میں بڑے پیمانے پر مسماری کی کارروائیاں کیں۔ انہوں نے مزید کہا: "ہماری تمام ٹیمیں اس وقت انتہائی خطرے میں ہیں اور مکمل طور پر غیر متحرک ہیں۔"

اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج اب العمل کے احاطے سے عملے، مریضوں اور بے گھر لوگوں کو مکمل طور پر نکالنے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور اس کے مکینوں کو زبردستی نکالنے کے لیے علاقے میں دھوئیں کے بم برسا رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی افواج خان یونس میں "انفراسٹرکچر" کو نشانہ بنا رہی ہیں جو بہت سے مزاحمت کاروں کے جمع ہونے کے مقامات کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ حماس فوجی مقاصد کے لیے ہسپتالوں کے استعمال کی تردید کرتی ہے اور اسرائیل پر شہری اہداف کے خلاف جنگی جرائم کا الزام عائد کرتی ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کہتی ہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے شمال میں واقع الشفاء میں درجنوں مریضوں اور طبی عملے کو حراست میں لے لیا ہے جو ایک ہفتے سے اسرائیلی قبضے میں ہے۔

الشفاء صحت کی ان چند سہولیات میں سے ایک ہے جو شمالی غزہ میں جزوی طور پر فعال ہیں اور - دوسرے ہسپتالوں کی طرح - تقریباً 20 لاکھ شہریوں میں سے کچھ کو پناہ دیئے ہوئے ہے جو جنگ سے بے گھر ہونے والی غزہ کی 80 فیصد آبادی ہے۔

رائٹرز غزہ کے متنازعہ ہسپتال کے علاقوں تک رسائی حاصل کرنے اور دونوں طرف سے بیانات کی تصدیق کرنے میں ناکام رہا ہے۔

خان یونس کے رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے النصر ہسپتال کے قریب ایک مغربی محلے میں بھی شدید فضائی اور زمینی آگ کی آڑ میں پیش قدمی کی۔

صحت کے حکام نے بتایا کہ مصر کے سرحدی شہر پر واقع غزہ کے سب سے جنوبی قصبے رفح میں جو غزہ کی بے گھر آبادی کے نصف کے لیے آخری پناہ گاہ بن گیا ہے، ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔

وزارتِ صحت نے اتوار کو ایک تازہ بیان میں کہا کہ سات اکتوبر سے گنجان آباد ساحلی علاقے میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں کم از کم 32,226 فلسطینی اور ان میں سے 84 گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہو چکے ہیں اور 74,518 زخمی ہوئے۔

امریکہ کی حمایت یافتہ قطر اور مصر کی مشترکہ ثالثی اب تک حماس-اسرائیل جنگ بندی کروانے، قیدیوں کی رہائی اور قحط کا سامنا کرنے والے غزہ کے شہریوں کے لیے بلا تعطل امداد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ فریقین بنیادی مطالبات پر قائم ہیں۔

حماس چاہتی ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کے معاہدے میں جنگ کے خاتمے اور غزہ سے افواج کے انخلاء کا اسرائیلی عزم شامل ہو۔ اسرائیل نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک لڑتا رہے گا جب تک حماس کو ایک سیاسی اور فوجی طاقت کے طور پر ختم نہ کر دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں