فلسطین اسرائیل تنازع

اردن میں اسرائیلی سفارتخانے کی طرف مارچ کرنے والے مظاہرین کے خلاف پولیس ایکشن

اسرائیل مخالف نعرے لگاتے اردنی شہری عمان کے تل ابیب کے ساتھ امن معاہدہ خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ، فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور ہسپتالوں پر اسرائیلی بمباری کے خلاف اردنی دارالحکومت عمان کے شہریوں نے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو اسرائیلی سفارت خانے کی طرف جانے سے روکنے لیے عمان کی پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے ہیں۔ یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا ہے۔

پولیس حکام نے اس سے پہلے کلوتی مسجد میں جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بھی آنسو گیس کا استعمال کیا تاکہ لوگ منتشر ہو جائیں اور اسرائیلی سفات خانے کی طرف نہ جائیں۔ حکام کے مطابق مظاہرین اسرائیلی سفارت خانے کی طرف مارچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

عینی شاہدوں کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو زدو کوب کرنے کے علاوہ کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا ہے، تاہم پولیس کی طرف سے ان واقعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اردنی مظاہرین 'اردن کی سرزمین پر صہیونی سفارتخانہ نہیں' کے نعرے لگا رہے تھے۔ خیال رہے اردن کے شہریوں کا پر زور مطالبہ ہے کہ اردن اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو ختم کرے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 'شہریوں کے پاس احتجاج کرنے کا حق ہے۔ لیکن بدامنی کے ماحول کو ہوا دینے، سفارت خانے پر دھاوا بولنے یا اسرائیلی سرحدی علاقے تک پہنچنے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔'

احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیل سے بدلہ لیں گے۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران شہریوں نے 'بدلہ ، بدلہ کے نعرے لگائے۔ خیال رہے اردن کی 12 ملین آبادی میں سے بہت سے فلسطینی نژاد ہیں۔ یہ 1948 کی جنگ کے دوران فلسطین سے بےدخل کر دیے گئے تھے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں