فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی راہ میں حائل کردہ رکاوٹیں دور کرے : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسرائیل انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے اور ان چیک پوسٹوں کو ختم کرے جو امدادی سامان کی ترسیل کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔

وہ اتوار کے روز قاہرہ میں مصری وزیر خارجہ سامح شکری کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ غزہ کے لوگوں کے لیے امداد کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ گوتریس نے اپنے اس مطالبہ کو دہرایا کہ غزہ میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بچانے اور ان کے مصائب کم کرنے کے لیے فوری جنگ بندی کی جائے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ 'غزہ کے لوگوں کے لیے جن میں بطور خاص فلسطینی بچے، فلسطینی عورتیں شامل ہیں غزہ کی صورتحال ایک خوفناک خواب بن چکی ہے۔ اس کا تدارک ضروری ہے۔' واضح رہے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے اتوار کے روز مصر سے جڑی غزہ کی رفح سرحد کا دورہ کیا اور غزہ کے بالکل قریب جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ جس پر اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز کی طرف سے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔

انتونیو گوتریس نے غزہ میں انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا 'ایسا لگتا ہے کہ غزہ میں قحط لانے، اسے فتح کرنے اور اس پر موت کے سائے جاری رکھنے کے گھوڑے سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ انہیں کی وجہ سے 24 لاکھ کی آبادی مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔ شہری انفراسٹکچر تباہ کر دیا گیا ہے اور انسان بھوکوں مرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا 'پوری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ بندوقوں کو خاموش کرانے اور جنگ بندی کرانے کے لیے وقت گزرچکا ہے۔ تاہم اب بھی انسانی بنیادوں پر فائر بندی ضروری ہے۔'

خیال رہے غزہ میں اب تک 32226 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ جن میں دو تہائی کی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس صورتحال میں عالمی رائے عامہ کا اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل جنگ کو کم کرنے کے بجائے بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ رفح پر اس کے حملے کی تیاری اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس ان دنوں قاہرہ میں ہیں جہاں انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے رفح راہداری اور العرش ایئرپورٹ سے جس قدر زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جا سکتا ہے، کیا جائے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ خوراک اور امدادی سامان غزہ تک پہنچایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ رفح اور العریش راہداریوں کا غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک اور امداد پہنچانے کے لیے کردار ایسا ہے جیسے انسانی جسم میں دل کو خون پہنچانے کے لیے خون کی نالیوں کا ہوتا ہے۔ لیکن خون کی ان نالیوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ انسانی بنیادوں پر امداد لے جانے والے ٹرکوں کے ساتھ یہ نالیاں تنگ ہونے کی وجہ سے اس وقت بند نظر آتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں