عمارت کی چوتھی منزل سے گرنے والی بچے کے والد کی ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے علاقے الریاض کے عفیف شہر میں دو سالہ بچی رتال ایک عمارت کی چوتھی منزل سے گر کربھی معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ یہ ایک خدائی معجزہ ہے ورنہ کوئی بچہ کسی عمارت کی چوتھی منزل سے گرکرکیسے زندہ بچ سکتا ہے۔

رتال کے والد مطیع مرشد نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیوی اور دو بیٹیاں چوتھی منزل کے ایک کمرے میں تھیں جہاں وہ ایک دوسری فیملی سے ملنے گئی تھیں۔ اس دوران کھیل کود میں ایک بچی نے کھڑکی کھول دی۔

پھر وہ ہوا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ خواتین نے اس طرف توجہ نہیں کی اور بچی کھڑی سے باہر گر گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ گھر پر نہیں تھے“میں ریاض میں کام کے مشن پر تھا اور صبح دو بجے مجھے اطلاع ملی۔ عمارت کے قریب موجود بلڈنگ گارڈ کی طرف سے بتایا گیا کہ میری بیٹی جس کی عمر دو سال سے زیادہ نہیں تھی گر گئی ہے۔ جیسے ہی مجھے یہ خبر ملی تو میں عفیف واپس آیا اور انتہائی خوف کی حالت میں تھا کیونکہ میں ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ سوچو اس وقت میری بیٹی پر کیا گزری ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اپنی بیٹی رتال کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ وہ کئی طرح کی باتیں سن رہےہیں۔ بچی تکلیف میں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے اطمینان کے لیے بچی کے تمام ضروری ٹیسٹ دوبارہ کرائوں۔

انہوں نے مزید کہا: "میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میری بیٹی کو ایک آسمانی معجزے سے موت سے بچا لیا گیا۔ ایک محافظ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ اسے کچھ زمین پر گرتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے پہلے سوچا کہ بچہ مر گیا ہے لیکن اس نے جب اس نے اسے زمین سے اٹھایا تو اس کی سانس لینے سے حیرت ہوئی۔ اس فوری ایمبولینس بلائی اور ہسپتال پہنچایا۔ بچی کا فوری معائنہ اور علاج شروع ہوا اور اسے ایک نئی زندگی ملی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں