فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطین کو تسلیم کرنے کی بات کرنے پر اسرائیل چار یورپی ملکوں کو دھمکانے پر اتر آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے چار یورپی ملکوں کو فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا عندیہ دینے پر سخت انتباہ کیا ہے۔ ان یورپی ملکوں نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو یہ ان کی طرف سے دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔ نیز اسرائیل کے بقول اس سے پڑوسیوں کے درمیان جاری تنازعات کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کا امکان کم ہو جائے گا۔

چھ ماہ سے غزہ میں جنگ جاری رکھ کر 32 ہزار سے زائد افراد کو قتل کرنے والے اسرائیل نے اپنے اس بیان سے عملاً چاروں یورپی ملکوں کو دہشت گردی کی حمایت کرنے کا طعنہ دیا ہے۔ واضح رہے اسرائیل کی طرف سے یہ بیان ' اونروا' کو شمالی غزہ میں خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل سے روکنے اور غزہ کی سرحد کے انتونیو گوتریس دورے پر اقوام متحدہ کو یہود دشمن ادارہ بن جانے کتے الزام کے بعد دیا ہے۔

واضح رہے سپین نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ' مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے وہ آئرلینڈ ، مالٹا اور سلووینیا سے اتفاق کرتا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھا جائے۔ جس کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے۔'

یاد رہے مقبوضہ مغربی کنارہ 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہے اور اس علاقے میں اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہودی بستیاں قائم کر رکھی ہیں۔ اس مقبوضہ علاقے میں آئے روز فلسطینیوں پر حملے کیے جاتے ہیں اور انہیں قتل کیا جاتا ہے جبکہ غزہ کو سات اکتوبر سے مسلسل بمباری کا نشانہ بنا کر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

چار یورپی ملکوں کی طرف سے فلسطینی ریاست کے حق میں یہ بیان سامنے آنے پر اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا ہے' فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یہ پیغام دہشت گرد اور قاتل فلسطینی تنظیموں کو کہا جارہا ہے کہ ان کے اسرائیل پر حملے کا جواب انہیں سیاسی کامیابی کی صورت دیا جائے گا۔'

کاٹز نے مزید لکھا ہے' تنازعہ کے فریقین کے درمیان مذاکرات سے ہی کوئی حل ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی کوشش کی جائے گی اس سے فلسطینی ریاست کا حل دور اور علاقائی عدم استحکام بڑھانےکے مترادف ہو گا۔'

اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس مسئلے کے حل کا ذکر تو کیا لیکن یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ کونسا حل چاہتے ہیں اور ان کے ذہن میں کونسا حل ہے۔ تاہم آج کل ایک جانب اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کو بمباری کا مسلسل نشانہ بنا رہا ہے اور دوسری جانب فلسطینیوں کے حق میں یا اصول کی بات کرنے والے افراد اور ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں پر برس رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں