نیتن یاہو کو جانا ہوگا: سابق اسرائیلی وزیرِاعظم اولمرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے العربیہ کو انٹرویو کے دوران موجودہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی شدید مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

30 مارچ کو منتہٰی الرحامی کا شو "ادر ٖڈائیمنشن" العربیہ چینل پر مکمل نشر ہو گا جس میں انٹرویو کے دوران اولمرٹ نے کہا، "میں نیتن یاہو کی حمایت نہیں کرتا۔ میرے خیال میں انہوں نے ہر ایک ممکنہ غلطی کی ہے اور انہیں ہٹانا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ جلد از جلد ہٹا دیا جائے گا۔"

انہوں نے کہا، "میں نیتن یاہو سے جان چھڑانے کے لیے اسرائیل کے جمہوری نظام کے دائرے میں رہ کر سب کچھ کر رہا ہوں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اسرائیل کی ریاست کے لیے صحیح شخص ہیں۔"

سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے نیتن یاہو کو اہم تفتیش اور تنقید کا سامنا ہے۔ حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کو محفوظ بنانے میں ان کی ناکامی اور غزہ میں ان کی انتقامی مہم کے لیے اسرائیل نے جو انداز اختیار کیا، یہ دونوں باتیں تنقید کا مرکز ہیں۔

2006 سے 2009 تک وزیرِ اعظم رہنے والے اولمرٹ نے کہا انہیں امید ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے گا اور فلسطینی ایسے اقدام کا خیر مقدم کریں گے۔

اولمرٹ نے بطور وزیرِ اعظم اپنے دور میں ایک امن منصوبہ تجویز کرنے کا دعویٰ کیا جسے فلسطینی فریق کی طرف سے خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں