فلسطین اسرائیل تنازع

پام سنڈے پر غزہ کے مسیحی امن کے لیے دعا گو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صاحبِ ایمان لوگ پام سنڈے کو غزہ کے واحد کیتھولک چرچ کے اگلے سنگی حصے سے ایک جلوس میں آہستہ آہستہ گذرتے ہوئے دعائے امن کرنے کے لیے جمع ہوئے جبکہ ان کے ارد گرد جنگ چھڑی ہے۔

درجنوں بچوں اور بوڑھوں سے بھرا ہولی فیملی چرچ کا پُرسکون صحن غزہ شہر میں اس کے دروازوں سے باہر جاری انسانی بحران کی گویا تردید کرتا تھا۔

چرچ کے اندر عبادت گذار اپنے مخصوص لباس میں ایسٹر کے ہفتے کے آغاز کے موقع پر سروس کے لیے کھجور کے پتوں سے سجے چوبی بنچوں پر قطار در قطار بیٹھے تھے۔

منبر سے خطاب کرتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا، "ہمارا پام سنڈے کا جشن ہمارے لیے اور پوری دنیا کے لیے امید، بھلائی اور امن کا موقع ہے۔"

ٹخنوں تک لمبے سرخ چغہ نما لباس میں ملبوس اس شخص نے کہا، "یہ موقع ہمارے دلوں کی تجدید کرنے اور انہیں محبت، دینے اور امن سے بھر پور بنانے کے لیے ہے۔"

اگلی صف میں پختہ نظر آنے والے قربان گاہ والے لڑکے خاموشی سے سن رہے تھے جبکہ مہینوں کی جنگ کے بعد کشیدہ چہروں والے پیرشین دوسری قطاروں کو بھر رہے تھے۔

شمالی غزہ میں واقع چرچ الشفا ہسپتال اور اس کے مضافات سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے جہاں اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ ایک حالیہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ غزہ کا شمالی علاقہ مئی تک قحط کا شکار ہو جائے گا بشرطیکہ فوری کارروائی نہ کی جائے۔

شدید لڑائی نے خاص طور پر تقریباً 300,000 افراد کے لیے ہنگامی خوراک کی امداد حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے جو اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق بدستور علاقے میں موجود ہیں۔

ہولی فیملی چرچ کی ایک بہن نبیلہ صالح نے اے ایف پی کو بتایا، "اس سال ہمارے پاس جشن منانے کا حوصلہ نہیں ہے۔"

"یہ سچ ہے کہ ہم نے آرائش کی لیکن ہمیں دوسرے سالوں کی خوشی محسوس نہیں ہوتی۔"

'واقعی دل شکن'

اگرچہ ہولی فیملی کا سامنے والا حصہ، صحن اور چرچ کے اندر عبادت کا علاقہ زیادہ تر برقرار ہے لیکن یہ جگہ لڑائی سے بہت متأثر ہوئی ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے عیسائی خاندانوں کو اندر پناہ مل گئی ہے اور دسمبر میں یروشلم کے لاطینی سرپرست نے چرچ میں اسرائیلی فائرنگ سے دو مسیحی خواتین کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے پاس "چرچ پر حملے کی کوئی اطلاع نہیں تھی" اور اس بات پر زور دیا کہ وہ "شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔"

غزہ سے بہت دور فلسطینی عیسائیوں نے یروشلم میں پام سنڈے ان لوگوں کے ساتھ منایا جو جنگ میں پھنسے ہوئے تھے۔

یسوع کی آمد جس کے دوران ہجوم نے ان کے قدموں میں کھجور کی شاخ رکھ دی تھی، کو دوبارہ پیش کرتے ہوئے ہزاروں لوگ بیت فیج چرچ سے قدیم شہر کی طرف چل دیئے۔

62 سالہ حنان نصراللہ نے کہا، یہ بہت افسوسناک ہے۔ امید ہے کہ خدا سب کے لیے امن لائے گا اور امید ہے کہ اگلے سال سب مل کر جشن منائیں گے۔

فلسطینی عیسائیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے لوگوں پر نقل و حرکت کی سخت پابندیوں پر بھی تنقید کی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو یروشلم میں ہونے والی تقریبات میں شامل ہونے سے روکا گیا۔

ایک 30 سالہ فلسطینی رقاصہ اور کوریوگرافر حنا ٹامس نے کہا، "مغربی کنارے سے میرے بہت سے دوست نہیں آ سکے۔"

انہوں نے اسے "واقعی دل شکن" قرار دیتے ہوئے کہا، "اسرائیلی حکام انہیں اجازت نہیں دے رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "میں غزہ کے لوگوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ وہ محفوظ ہوں اور کاش وہ یہاں ہمارے ساتھ ہوتے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں