پانچ میں سے دو یمنی بچے اسکول سے باہر ہیں: امدادی گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سیو دی چلڈرن نامی فلاحی تنظیم نے پیر کو کہا کہ یمن کی وحشیانہ جنگ کو تقریباً ایک عشرہ گذر جانے کے باوجود اس کے تقریباً 4.5 ملین بچے اسکول نہیں جا رہے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد نسبتاً پرسکون ہونے کے باوجود جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک میں روزمرہ کی زندگی تاحال کتنی غیر یقینی ہے۔

گروپ نے ایک رپورٹ میں کہا، "پانچ میں سے دو یا 4.5 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں اور بے گھر بچوں کے اسکول چھوڑنے کا امکان ان کے ساتھیوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔"

"یمن میں سروے کیے گئے خاندانوں میں سے ایک تہائی میں کم از کم ایک ایسا بچہ ہے جو اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود گذشتہ دو سالوں میں اسکول چھوڑ چکا ہے۔"

یمن میں تنازع اس وقت شروع ہوا جب ستمبر 2014 میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔

خیراتی ادارے نے کہا کہ جنگ کے درمیان معاشی عدم تحفظ نے یمن کے 33 ملین باشندوں میں سے دو تہائی کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے جبکہ تقریباً 4.5 ملین افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

سیو دی چلڈرن نے کہا، "بے گھر ہونے والے بچے اسکول چھوڑنے کے خطرے کا دوگنا شکار ہیں۔"

یمن میں سیو دی چلڈرن کے عبوری ملکی ڈائریکٹر محمد منّا نے کہا، "اس فراموش کردہ تنازعے کے نو سال بعد ہم تعلیمی ایمرجنسی کا سامنا کر رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔"

"ہماری تازہ ترین دریافتیں ایک ویک اپ کال ہونی چاہیے اور ہمیں ان بچوں اور ان کے مستقبل کی حفاظت کے لیے ابھی سے کام کرنا چاہیے۔"

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی گروپ کے انٹرویو کیے گئے 14 فیصد خاندانوں نے عدم تحفظ کو اپنے بچوں کے سکول چھوڑنے کی وجہ قرار دیا۔

لیکن ایک بڑی اکثریت - تقریبا 44 فیصد - نے اقتصادی وجوہات بالخصوص خاندان کی آمدنی کو سہارا دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔

تقریباً 20 فیصد نے کہا وہ اسکول کے باقاعدہ اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔

خیراتی ادارے نے کہا، "یمن کے بچوں اور ان کے مستقبل پر تعلیمی بحران کے اثرات گہرے ہیں۔"

"فوری مداخلت کے بغیر پوری نسل کے پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں