فلسطین اسرائیل تنازع

"بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں،شمالی غزہ میں قحط سر پر کھڑا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے جنگ سے تباہ حال علاقے غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے اسرائیلی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے مگر شمالی غزہ میں انسانی صورتحال ہر گذرتے لمحے ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

دوسری جانب قوام متحدہ نے قحط کے خطرے کے بارے میں اپنے انتباہات کا اعادہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ ترین الرٹ میں یونیسیف کی ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے زور دے کر کہا کہ شمالی غزہ میں قحط آنے والا ہے۔

انہوں نے آج پیر کو "X" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ بچے غذائی قلت اور پانی کی کمی سے مر رہے ہیں۔

"بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں"

انہوں نے لکھا کہ "امدادی تنظیموں کو غزہ میں ہر جگہ ضرورت مند بچوں اور خاندانوں تک مکمل رسائی ہونی چاہیے"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں بچوں کی زندگی اور صحت "داؤ پر لگی ہوئی ہے"۔

یہ بات اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی کے کل اتوار کے روز اس انکشاف کے بعد سامنے آئی ہےجس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل نے بین الاقوامی تنظیم کو مطلع کیا ہے کہ وہ ایجنسی کے فوڈ قافلے شمالی علاقوں میں بھیجنے کی اجازت نہیں دے گا۔

غزہ میں بے گھر بچے کھانے کے انتظار میں
غزہ میں بے گھر بچے کھانے کے انتظار میں

ایک نہ ختم ہونے والا ڈراؤنا خواب

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ میں انسانی صورت حال کی سنگینی سے خبردار کیا اور کہا کہ غزہ میں فلسطینی ایک "نہ ختم ہونے والے ڈراؤنے خواب" کی زندگی گزارتے ہیں۔ انہوں نے غزہ کوفوری اور بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ شمالی غزہ کی پٹی میں اب اور مئی کے درمیان قحط پھیلنے کا خطرہ ہے جہاں تین لاکھ افراد اب بھی لڑائی کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ میں بھوک کی "تباہ کن" سطح کا سامنا کرنے والے لوگوں کی تعداد 1.1 ملین ہو گئی ہے جو آبادی کا نصف حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں