فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کی وجہ سے جنگ بندی مذاکرات بند گلی میں جا چکے تھے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اختلافات جاری رہنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ تل ابیب نے معاملہ طے کرلیا ہے۔

ہر خاتون فوجی کے بدلے عمر قید کے سزا یافتہ 7 قیدیوں کی رہائی

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے پیر کو اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات جو مہینوں سے بغیر پیش رفت کے جاری تھے اختتام کو پہنچ گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس کے مطالبات کی وجہ سے جنگ بندی مذاکرات بند گلی میں جا چکے تھے کیونکہ تحریک نے جنگ بندی کے دوران اسرائیلی افواج کو غزہ میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں تل ابیب نے بھاری قیمت ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ تحریک اپنے مطالبات پربہ ضد تھی۔

براڈ کاسٹنگ کمیشن نے مزید کہا کہ اسرائیل کو خواتین فوجیوں کے بدلے رہائی پانے والوں کی فہرست کو ویٹو کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا بلکہ ہر خاتون فوجی کے بدلے عمر قید کی سزا پانے والے 7 قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

یہ پیش رفت واشنگٹن کی طرف سے تل ابیب پر اپنے سیکرٹری آف سٹیٹ، انٹونی بلنکن کے ذریعے مذاکرات میں پیش رفت کرنے اور دنوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکی دباؤ کے دوران سامنے آیا۔

جب کہ مبصرین کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہو رہا تھا وہ اس معاہدے کی پیدائش سے پہلے کی کوششیں تھیں۔ اس سے متعلق تفصیلات اور اختلاف رائے پر بحث تک پہنچنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاہدہ ممکن ہی نہیں تھا۔

اس کے باوجود حماس نے گذشتہ چند دنوں میں بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے اور اسرائیلی فریق کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے آئندہ معاہدے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے پوزیشن ابھی تک غیر واضح ہے۔

گرہ خود!

قابل ذکر ہے کہ ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے اتوار کو کہا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی معاہدے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اب حماس کے جوابات کا انتظار کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے کے روز دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایک "تجویز پیش کی جو کہ قید فلسطینی قیدیوں کی تعداد کو قریب تر لاتی ہے۔

مذکورہ تجویز میں 6 ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے ساتھ حماس کے زیر حراست 130 اسرائیلی قیدیوں میں سے 40 کی رہائی بھی شامل تھی۔

انہوں نے شمالی غزہ کے رہائشیوں کی واپسی کے لیے شرائط میں نرمی کا خیال بھی پیش کیا۔

دریں اثناء حماس کے ایک سینیر عہدیدار سامی ابو زہری نے رائیٹرز کو بتایا کہ تحریک نے اس سے قبل اس ماہ کے شروع میں ایک تجویز پیش کی تھی جسے اسرائیل نے غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی حکام 700 سے ایک ہزار کے درمیان فلسطینی قیدیوں کو رہا کریں گےاور ان کے بدلےحماس خواتین، نابالغ، بوڑھے اور بیمار اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں