فلسطین اسرائیل تنازع

سلامتی کونسل: جنگ بندی قرارداد ویٹو نہ کرنے پر اسرائیل امریکہ سے روٹھنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں الجیریا اور عرب ملکوں کی قرارداد کو امریکہ کی طرف سے ویٹو نہ کیے جانے کے بعد وہ اسرائیلی وفد مشاورت کے لیے امریکہ نہیں بھیج رہے۔

نیتن یاہو کے بیان کے مطابق جو ان کے دفتر نے جاری کیا ہے 'امریکہ اپنا اسرائیلی حمایت کا مؤقف برقرار نہیں رکھ سکا ہے۔ امریکہ کے اپنے مؤقف سے انحراف کا حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کو دھچکا پہنچے گا۔ نیز اس سے 130 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔'

اسرائیلی وزیراعظم کے بیان میں مشاورت کے لیے وفد بھیجے جانے کے فیصلے کو تبدیل کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے 'غزہ جنگ کے بارے میں امریکی مؤقف کی تبدیلی کی روشنی میں وزیراعظم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وفد امریکہ نہیں بھیجا جائے گا۔' اسرائیل نے رفح پر اپنے امکانی حملے کے منصوبے کے سلسلے میں تفصیلی مشاورت کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس میں ممکنہ طور پر وزارت دفاع اور جنگ سے متعلق حکام شامل ہو سکتے تھے۔ تاکہ رفح پر جنگ کے بارے میں اسرائیل اور امریکہ دونوں ایک صفحے پر رہیں اور غزہ جنگ کے حوالے سے پہلے کی طرح کامل یکجہتی کا ماحول برقرار رہے۔

واضح رہے اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے بالواسطہ طور پر ایک روز پہلے ہی امریکہ کو ایسی کسی حرکت پر انتباہ کر دیا گیا تھا۔ کہ امریکہ سلامتی کونسل میں پیش کردہ نئی جنگ بندی قرارداد کو ویٹو کرنے سے فرار اختیار نہ کرے اور اسرائیل کی حمایت کے لیے پہلے کی طرح کھڑا رہے۔ بصورت دیگر اسرائیلی وفد امریکہ نہیں بھیجا جائے گا۔

پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 6 ماہ کے دوران پہلی بار ایک جنگ بندی قرارداد منظور کی ہے۔ جس میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم جنگ بندی کو یرغمالیوں کی پیشگی رہائی سے مشروط نہیں کیا گیا۔ یہ پہلی قرارداد ہے جس کی راہ میں اسرائیلی خواہش کے باوجود امریکہ رکاوٹ نہیں بنا ہے۔ امریکہ نے اسے ویٹو کرنے کے بجائے ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے اس امر کی تردید کی ہے کہ اسرائیل یا جنگ کی حمایت کے معاملے میں امریکی مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ یہ بات وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اسرائیلی وزیراعظم کے تازہ اعلان کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی ہے۔

جان کربی نے کہا 'اسرائیل کا یہ فیصلہ بدقسمتی ہے۔ تاہم امریکہ کوشش کرے گا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے لیے بات چیت میں اسرائیل کی اس تشویش کو سامنے رکھیں۔'

قومی سلامتی کے مشیر کا مزید کہنا تھا 'یہ ہمارے لیے بہت مایوس کن بات ہے کہ وہ واشنگٹن میں مشورے کے لیے نہیں آرہے ہیں اور نہ اس بات کی اجازت دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایک بھرپور بات چیت سے گزریں۔ تاکہ رفح پر اسرائیل کے حملے کے منصوبے کا کوئی بہتر متبادل پیش کیا جا سکے۔ ہمارے خیالات میں زمین پر کی جانے والی جنگی کارروائیوں کے بارے میں بالکل تبدیل نہیں ہے لیکن رفح پر حملہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔'

ایک سوال کے جواب میں جان کربی نے کہا 'اسرائیلی وزیردفاع یوو گیلنٹ کے امریکی دورے کے دوران وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر جیک سلیوان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں امریکی عہدیدار انہیں خطوط پر تبادلہ خیال کریں گے جن نکات کو اسرائیلی وفد کی واشنگٹن آمد کی صورت میں زیر بحث لایا جانا تھا۔

اسرائیلی پارلیمان میں اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے وزیراعظم نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس طرح کے فیصلے کر کے مخلوط حکومت کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے سیاسی مفادات کی یہ بہت بھاری قیمت ہے۔

یائر لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں لکھا 'نیتن یاہو کا یہ فیصلہ حیران کن اور غیرذمہ دارانہ ہے۔' نیتن یاہو جن کے فیصلوں کی وجہ سے اسرائیل کوعالمی سطح پر دباؤ کی ایک نئی صورتحال کا سامنا ہے، ملک کے اندر بھی غیرمقبولیت کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ان کی جنگی کابینہ سے لے کر اپوزیشن اور عوامی سطح تک مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں