فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں اسرائیل کی مسلسل بمباری روکنے کے لیے سلامتی کونسل کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان اس وقت جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جب اسرائیلی بمباری مسلسل جاری ہے اور اسرائیلی فوج نے غزہ میں مزید 2 ہسپتالوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک ہفتے سے زائد عرصے سے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال 'الشفاء' میں آپریشن جاری رکھا ہوا ہے اور ہسپتال عملاً فوجی چھاؤنی بن چکا ہے۔

اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کی طرف سے جنگ بندی قرارداد کو ویٹو نہ کیے جانے اور ووٹنگ سے الگ ہوجانے کے بعد منظور کی گئی جنگ بندی قرارداد میں اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عالمی رائے عامہ اور سلامتی کونسل میں مسلسل سامنے آنے والے دباؤ کے بعد امریکہ کے لیے بھی ایک بار پھر اس قرارداد کو ویٹو کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

اقوام متحدہ اور اس سے متعلقہ ادارے غزہ میں فلسطینیوں کے مسلسل قتل عام پر تشویش ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ قحط سے خبردار کر رہے ہیں جس نے دنیا کے کئی ملکوں کو مجبور کر دیا کہ وہ جنگ بندی کی حمایت کریں۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ 'حماس کے خلاف جنگ اس وقت تک روکی نہیں جا سکتی جب تک یرغمالیوں کو رہا نہ کرا لیا جائے۔' تاہم یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ چھ ماہ کی جنگ کے دوران اسرائیل اپنی فوج کی مدد سے ایک بھی یرغمالی کو رہا نہیں کرا سکا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے 'ہم حماس کے خلاف ہر جگہ جنگ کریں گے۔ ان جگہوں پر بھی جہاں ابھی ہم نے جنگ شروع نہیں کی ہے۔' اسرائیلی وزارت دفاع نے یوو گیلنٹ کا بیان ان کے امریکہ کے ساتھ امکانی مذاکرات سے ایک روز پہلے جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے 'ہمارے پاس غزہ میں جنگ روکنے کا کوئی اخلاقی جواز موجود نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے یرغمالی آج بھی حماس کی قید میں ہیں۔'

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جن کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ان دنوں خرابی آئی ہے نے کہا ہے 'جنگ بندی قرارداد کو سلامتی کونسل میں ویٹو نہ کر کے امریکہ نے اپنے مؤقف سے پسپا ہونے کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے ہم اپنا وفد امریکہ مشاورت کے لیے نہیں بھیج رہے۔

وفد امریکہ نہ بھیجنے کا اعلان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد اسرائیل نے اپنا وفد امریکی حکام کے ساتھ رفح حملے کے بارے میں مشاورت کے لیے نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الجیریا کےاقوام متحدہ میں سفیر عامر بندجاما نے قرارداد کی منظوری کے بعد کہا 'غزہ کی جنگ سے فلسطینی عوام بہت بری طرح مصائب میں گھر گئے ہیں۔ خون ریزی کا سلسلہ غزہ میں بہت طوالت پکڑ چکا ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس خون ریزی کو روکیں۔ اس سے پہلے کہ مزید دیر ہوجائے۔' واضح رہے نومبر کے اختتام کے بعد سے اسرائیل نے جنگ میں کوئی وقفہ قبول نہیں کیا تھا۔ اب تک غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 32333 فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔ جبکہ 74694 فلسطینی زخمی ہیں۔

غزہ پر جاری بمباری اور محاصرہ

سلامتی کونسل میں منظور کی گئی قرار داد میں غزہ کے ہسپتالوں پر اسرائیل کی تازہ کارروائیوں اور حملوں کو نئی جنگی لہر قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے ہسپتالوں کو اپنے مراکز کے طور پر استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے اس لیے ہسپتالوں کو ناکہ بندی اور حملوں کی زد میں لیا گیا ہے۔

رفح جو کہ غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی آخری پناہ گاہ کے طور پر باقی بچا ہے میں اب تک اسرائیلی حملوں میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران 30 فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ ابھی ہونا باقی ہے، جس کی اسرائیل کئی ہفتوں سے تیاری کر رہا ہے۔

رفح میں پناہ لیے ہوئے ایک فلسطینی ابو خالد نے کہا ' حالیہ دن رفح میں گذرے ہمارے اب تک کے دنوں میں سے بد ترین دن رہے ہیں۔ سات بچوں کے باپ ابو خالد نے اپنا مکمل نام ظاہر نہ کیا کہ اسے اسرائیلی فوج کی طرف سے خوف لاحق ہے۔

ادھر دیر البلاح میں اسرائیلی بمباری کے بعد ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں طبی عملے نے اطلاع دی ہے کہ ایک ہی گھر پر بمباری کے نتیجے میں پیر کے روز 18 افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے العمل اور النصیر ہسپتالوں کو بھی خان یونس کے علاقے میں گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں