فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے بے گھر فلسطینی جنگ بندی قرارداد کے بعد بھی شکوک و شبہات کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی گئی قرار داد کے بعد بھی چھ ماہ سے غزہ میں جاری خوفناک اسرائیلی جنگ میں بد ترین تباہی سے دوچار ہونے والے فلسطینی شہریوں کے ذہنوں پر شکوک اور خوف کے سائے موجود ہیں ابھی جاری ہیں۔

بے گھر ہو چکے 63 سالہ بلال عواد نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی کی قرارداد کا اگرچہ خیر مقدم کیا مگر اسے یقین نہیں ہے کہ اس قرارداد کے باوجود اسرائیل جنگ روکے گا۔

عواد نے کہا کہ ' اسرائیل کے بڑے حامی امریکہ نے اس قرار داد کے حق میں براہ راست ووٹ نہیں دیا ہے۔ کیونکہ اسے اپنے قریبی اتحادی کی ناراضگی کا خوف تھا اس لئے مشکل ہے کہ اسرائیل پر ایسا دباؤ آئے کہ وہ جنگ سے پیچھے ہٹے۔بلکہ سلامتی کونسل میں ووٹنگ ووٹ اسرائیلی غصہ بڑھ بھی سکتا ہے۔

واضح رہے تقریبا چھہ ماہ سے غزہ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے پہلی بار سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد منظور کی ہے۔ تاہم اس پر اسرائیلی غصے میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

عواد نے مزید کہا اگر اب بھی اسرائیل دنیا کی مخالفت کرتا ہے تو یہ اسرائیل کے حامی امریکہ کے لیے ایک دھچکا ہے۔

خود امریکہ کے لئے بھی اہم بات ہو گی کہ اس کی رائے امریکہ محض کاغذ پر سیاہی بن کر رہ جائے گی اگر وہ وہ اسرائیل کو طاقت سے نہیں روکتا ہے۔

غزہ کے جنوب میں واقع رفح کی آبادی عواد جیسے بہت سے فلسطینیوں کی آمد سے غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے، جو تقریباً چھ ماہ کی جنگ سے بے گھر ہوئے اور جنوب میں پناہ کی تلاش میں۔ یہ شہر اب تقریباً 1.5 ملین فلسطینیوں کا گھر ہے، جو جنگ سے پہلے کئی لاکھ سے زیادہ ہے، جن میں سے بہت سے عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ لیکن اسرائیل نے اسی گنجان آباد رفح میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

قاسم مقداد نے رفح میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی ووٹنگ کے بعد بھی کچھ زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ 74 سالہ مقداد کت مطابق 'ہمیں امید ہے کہ یہ فیصلہ کارآمد ثابت ہو گا، اور بڑی طاقتیں اپنی طاقت اور اختیار کو اسرائیل کے خلاف استعمال کرسکیں گی۔

74 سالہ اس فلسطینی نے کہا۔' ہم زیادہ پر امید نہیں ہیں کہ اسرائیل اس فیصلے پر راضی ہو جائے گا، کیونکہ اسرائیل نے بہت سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں