قیدیوں کا معاملہ نہیں جنگ بندی میں رکاوٹ کی وجہ امریکہ ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے پیر کے روز اعلان کیے جانے کے بعد کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اختتام کو پہنچ چکے ہیں حماس نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ کی پٹی کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی موقف کو ثالث کا موقف نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ اسرائیل کی حمایت کی بنیاد پر قائم موقف ہے۔ امریکہ اسرائیل کا سیاسی اور فوجی شراکت دار ہے۔

انہوں نے کہا اسرائیل کے ساتھ معاہدے میں مسئلہ قیدیوں اور ان کی تعداد سے متعلق نہیں ہے بلکہ اسرائیلی فریق غزہ کے لوگوں کی زندگیوں کے بنیادی مسائل پر ثالثوں کو کوئی ضمانت دینے سے انکاری ہے۔ حماس کی ترجیحات میں غزہ پر جنگ کو روکنا، امداد لانا، بے گھر افراد کی واپسی اور تعمیر نو کا واضح منصوبہ بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ صرف قیدیوں کی رہائی تک محدود نہیں ہے جیسا کہ اسرائیل صرف قیدیوں کی رہائی کے مسئلے کو فروغ دے رہا ہے۔

یہ بیان اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے متوقع معاہدے پر اختلافات کے جاری رہنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یاد رہے اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے پیر کو اعلان کیا کہ غزہ جنگ بندی کے مذاکرات جو مہینوں پر محیط ہیں اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ حماس کے مطالبات کی وجہ سے راستے کو بند کردیا گیا کیونکہ حماس نے جنگ بندی کے دوران اسرائیلی افواج کو غزہ میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے یہ بھی کہا دوحہ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں تل ابیب نے بھاری قیمت ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ تحریک ضد پر قائم رہی۔ حماس نے یہ موقف بھی اپنایا کہ اسرائیل کو خواتین فوجیوں کے بدلے رہائی پانے والوں کی فہرست کو ویٹو کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود اسرائیل نے ہر خاتون فوجی کے بدلے عمر قید کی سزا پانے والے 7 قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

یاد رہے یہ پیش رفت تل ابیب پر مذاکرات میں پیش رفت کرنے اور دنوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکی دباؤ کے دوران سامنے آئی ہے۔

تصفیہ کے لیے امریکی تجویز

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی تصفیہ کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ اسرائیل اب حماس کے جوابات کا انتظار کر رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے روز دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایک تجویز، جو قید فلسطینی قیدیوں کی تعداد کو قریب تر لاتی ہے، پیش کی ۔ اس تجویز کے مطابق کہ اسرائیل کو غزہ میں ممکنہ نئی جنگ بندی کے دوران حماس کی طرف سے رہا کیے گئے ہر یرغمالی کے بدلے کئی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ اس طرح اس تجویز میں 6 ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے ساتھ حماس کے زیر حراست 130 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 40 کی رہائی بھی شامل کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں