شام اور اسد

مشرقی شام پر نامعلوم حملے ، سرکردہ ایرانی رہنما ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے خبر دی ہے کہ منگل کی صبح مشرقی شام میں دیر الزور گورنری کو نشانہ بنانے والے نامعلوم ہوائی حملوں میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے سات ارکان مارے گئے۔

دیر الزور شہر میں ایک ایرانی دھڑے کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے والے حملوں کے نتیجے میں ایک سرکردہ شخصیت کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نامعلوم طیاروں نے دیر الزور گورنری میں ایرانی دھڑے کے ٹھکانوں پر حملے کیے جس کے نتیجے میں کئی اور ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔

نامعلوم طیارے نے المیادین فارمز، البوکمال شہر میں ملیشیا کے دو ہیڈکوارٹر، العباس کے علاقے کے قریب واقع ہیڈکوارٹر اور دیر الزور شہر کے ایک محلے میں واقع ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان اور رسد کا سامان

آبزرویٹری کے مطابق، یہ حملے ایرانی ٹرانسپورٹ طیارہ دیر الزور ہوائی اڈے پر اترنے کے چند گھنٹے بعد ہوئے۔

ایک ٹرانسپورٹ طیارہ آج دیر الزور ملٹری ایئرپورٹ پر اترا، جس میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان اور رسد کا سامان تھا۔

سیریئن آبزرویٹری کے ذرائع نے تصدیق کی کہ طیارہ مواصلاتی آلات اور کیمروں سے لدا ہوا تھا۔سامان ٹرک کے ذریعے لے جا کر نامعلوم مقام کی طرف روانہ کیا گیا۔

دیر الزور، مشرقی شام سے

7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، حزب اللہ یا متعدد ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں سے تعلق رکھنے والے شامی مقامات پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ دسمبر سے لے کر اب تک ایرانی پاسداران انقلاب کے چھ سے زائد اہلکار اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، حملوں نے پاسداران انقلاب کو شام کی سرزمین پر اپنے سینئر افسران کی تعیناتی کو کم کرنے پر آمادہ کیا، اور وہ وہاں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے اس کے ساتھ منسلک دھڑوں پر زیادہ انحصار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آبزرویٹری کے اعدادوشمار کے مطابق 2024 کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 17 فضائی اور 8 زمینی ہیں۔

ان حملوں کے نتیجے میں ہتھیاروں کے ڈپو، ہیڈکوارٹر، مراکز اور گاڑیوں سمیت تقریباً 49 اہداف کو نقصان پہنچا اور تباہ کر دیا گیا۔

اس کے نتیجے میں 43 شامی فوجی مارے گئے، اس کے علاوہ 21 دیگر زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں