ہمارے پاس مئی کے آخر تک امدادی آپریشنز کے لیے فنڈز ہیں:اونروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کے لیے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ امدادی ادارے کے پاس صرف مئی کے آخر تک اپنا کام چلانے کے لیے فنڈز ہیں جب کہ متعدد عطیہ دہندگان نے اسرائیلی الزامات کی وجہ سے اپنی فنڈنگ روک دی تھی جب اسرائیل نے الزام عاید کیا تھا کہ ایجنسی کے کچھ ملازمین نے اسرائیل پرحماس کے حملے میں حصہ لیا تھا۔

لازارینی نے جنیوا میں رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ "میں آج جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم مئی کے آخر تک اپنی کارروائیاں چلا سکتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کی مالی حالت کتنی خراب ہے"۔

کل سوموار کواقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کا دفاع کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے "روشنی اورامید کی واحد کرن" ہے۔ اس ادارے کو بند کرنا اور اس کی امداد روکنا لاکھوں فلسطینی مہاجرین سے زندگی کی امید چھین لینا ہے۔ یہ ظالمانہ اور ناقابل فہم معاملہ ہوگا۔

گوتریس نے کہا کہ "ہمیں ’اونروا‘ کی طرف سے فراہم کردہ منفرد خدمات کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ امید کو زندہ رکھنے کا واحد ادارہ ہے۔ ایک تاریک دنیا میں اونروا لاکھوں لوگوں کے لیے روشنی کی واحد کرن ہے"۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ’اونروا‘ نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے اسے قحط کے دہانے پر موجود شمالی غزہ کی پٹی تک امداد پہنچانے سے مستقل طور پر روک دیا ہے۔

جنوری کے آخر میں اسرائیل نے غزہ میں ایجنسی کے تقریباً 13,000 ملازمین میں سے 12 پر 7 اکتوبر کو اسرائیلی سرزمین پر حماس کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں