ہمارے پیاروں کی لاشیں ملبے کے نیچے ہیں: فلسطینیوں کی دہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے ہسپتالوں اور طبی مراکز پر اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں اور ان میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ حالیہ اسرائیلی حملوں سے فرار ہونے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لواحقین کی لاشیں اب بھی ملبے کے نیچے ہیں۔ فلسطینی ہلال احمر نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اسرائیلی فورسز نے امل ہسپتال اور ناصر ہسپتال کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے ہسپتالوں اور اطراف میں بمباری اور فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو شہید اور زخمی کردیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے شفا ہسپتال کا محاصرہ 8 ویں روز بھی جاری رکھا اور شفا ہسپتال سے 170 سے زیادہ جنگجوؤں کو قتل کرنے اور 480 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جنگ کے آغاز سے ہی شفا میڈیکل کمپلیکس زمینی کارروائیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے بار بار اس پر دھاوا بولا جارہا ہے۔ اسرائیل اپنے حملوں کے جواز میں دعویٰ کر رہا ہے کہ حماس کی جانب سے ہسپتال کے تہ خانوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ حماس نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

اسرائیل نے شفا کمپلیکس کو حماس کی جانب سے فوجی کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کے ثبوت بھی پیش کئے تھے۔ ان ثبوت پر اوپن سورس ڈیٹا، سیٹلائٹ امیجز پر انحصار کرنے والی امریکی رپورٹس نے سوالات اٹھائے تھے اورنتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ اسرائیلی ثبوت الزامات کی سطح تک نہیں پہنچے ہیں۔

بغیر ثبوت اسرائیلی الزامات

یاد رہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ میں صحت کے نظام پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے محصور غزہ کی پٹی میں زیادہ تر ہسپتال اور طبی سہولیات بند ہو گئی ہیں۔ اسرائیل نے ہر بار اپنے حملوں کا جواز ان صحت کی مراکز کے اندر حماس تحریک کے لیے سرنگوں، اڈوں، یا اسلحے کے ڈپو کی موجودگی کا دعویٰ کرکے پش کیا۔ تاہم اپنے دعویٰ کے حق میں واضح اور ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں