فلسطین اسرائیل تنازع

اردن: اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف حکومت نے بلوا پولیس لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اردنی دارالحکومت عمان میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کرنےوالے شہریوں سے نمٹنے کے لیے بلوا پولیس لگا دی ہے۔ یہ اردن کی سخت ترین پولیس ہے جو قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو خوب تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

منگل کی شام بھی دارالحکومت عمان میں مظاہرین غزہ کی جنگ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ، تاہم اردن کی انسداد بلوا پولیس نے جنگ روکنے کا مطالبہ کرنے والے ان اردنیوں کو فسادی قرار دیتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا اور درجنوں کو حراست میں لے لیا۔

عینی شاہدین اور مقامی لوگوں نے مظاہرین کو پولیس کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے اور گرفتار ہوتے دیکھا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق دو ہزار سے زیادہ اردنی شہری اس مظاہرے میں شریک تھے ۔ یہ حالیہ دنوں کے دوران غزہ میں جنگ روکنے کے حق میں تیسرے دن کا مظاہرہ تھا جو منگل شام کو جاری تھا۔

مظاہرین اسرائیلی سفارت خانے کی طرف جانا چاہتے تھے تاکہ اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کر سکیں، تاہم لاٹھی چارج سے اس وقت روک دیا ، روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور انہیں زبردستی پیچھے دھکیل دیا ۔ اس سے پولیس اور مظاپرین کے درمیان تناؤ کی صورت حال بھی پیدا ہوگئی۔

واضح رہے اسرائیلی سفارت خانہ دارالحکومت عمان کے رابعی ضلع کے ' پوش ' علاقے میں ہے۔ پچھلے دنوں سے اردنی مظاہرین ہر روز اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرین بنیادی طور پر غزہ میں فلسطینیوں کی ہر روز بڑھتی چلی جانے والی ہلاکتوں اور اسرائیلی جنگ کے خلاف نکلتے ہیں۔

اب تک بمباری کر کے اسرائیلی فوج نے غزہ کے 32333 فلسطینی اسرائیلی فوج نے قتل کر دیے ہیں جبکہ ہزاروں کو زخمی کر دیا ہے۔ تاہم یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیل نے رفح کو بھی اسی جنگ کی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔

عینی شاہدوں کے مطابق عمان میں مظاہرے کے شرکاء حماس کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ 'ہم سب آپ کے ساتھ پیں ۔' چھ ماہ کے قریب پہنچنے والی غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دنوں میں اردنی شہریوں کے فلسطین اور فلسطینیوں کے لیے جذبات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر تباہ کن یلغار کی وجہ سے پورے خطے کے عوام میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں حمایت کی لہر میں شدت آئی ہے۔

عمان کے حکام نے اردنی مظاہرین کی اس کمٹمنٹ کو دیکھتے ہوئے کہہ رکھا ہے کہ پر امن احتجاج کی اجازت ہے لیکن کسی بھی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ مظاہرین میں وقت کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور اس کے حماس اور ساتھیوں کے لیے ہمدردی بڑھ رہی ہے۔ جبکہ اسرائیل کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

اس غم و غصے میں اضافے کا سبب غزہ کے ساتھ ہی ساتھ مغربی کنارے میں بھی آئے روز اسرائیلی فوج کے حملوں سے فلسطینی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرینشنل نے پچھلے ماہ اردنی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینیوں کے حق میں ان مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بند کرے اور ان کی گرفتاریوں کو روکے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے گریز کرے۔ ایمنیسٹی نے مظاہرین کے خلاف اردنی پولیس کے تشدد پر تنقید بھی کی ہے۔

خیال رہے اردن ان عرب ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ اردن کی حکومت نے 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں