فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا حماس کے تیسرے اہم رہنما مروان عیسیٰ کی ہلاکت کا اعلان

مروان عیسیٰ کے قتل کا اعلان نیتن یاہو کے بحرانوں کو چھپانے کی کوشش ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے غزہ میں دو ہفتے قبل کیے گئے ایک حملے میں حماس کے رہنما مروان عیسیٰ کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے مروان عیسیٰ کو "حماس میں نمبر تین" کے طور پر بیان کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل کے اندر شروع کیے گئے حملے کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے۔

ترجمان نے کہا کہ اس حملے کے دوران حماس کے ایک اور رہنما غازی ابو طماعہ کو مارا گیا، جو حماس کے سینٹرل کیمپس بریگیڈ کے کمانڈر تھے، جبکہ اس سے پہلے وہ تحریک کے جنگی ذرائع اور اس کے تمام نظاموں کی خریداری کے ذمہ دار تھے۔

دریں اثنا، حماس کے رہنما عزت الرشق نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مروان عیسیٰ کے قتل کا اعلان نیتن یاہو کے بحرانوں کو چھپانے کی کوشش ہے اور تحریک اسرائیل کے بیانیے پر اعتماد نہیں کرتی۔

حماس کا مطالبہ

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ تحریک حماس کی طرف سے جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کرنے کے بعد اسرائیل جنگ بندی کے مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔

حماس نے پیر کو دیر گئے ایک بیان میں جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پر اس کے بنیادی مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا، جن میں جنگ کا خاتمہ اور غزہ سے مکمل انخلا شامل ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حماس کے "فریب" مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گا اور مسلح تحریک کی فوجی صلاحیتوں اور حکمرانی کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ باقی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام جاری رکھے گا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے منگل کے روز اسرائیل آرمی ریڈیو کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی منظوری دی گئی ہے جس میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کی رہائی نے حماس کو مجوزہ معاہدے کو مسترد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

انہوں نے اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ پر حماس اور اس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کی مذمت نہ کرنے کی وجہ سے قرارداد کو ویٹو نہ کرنے پر بھی تنقید کی۔

خیال رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، محصور پٹی میں 32,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور 74,000 سے زیادہ دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں خواتین اور بچوں کی تعداد دو تہائی ہے۔

سات اکتوبر کو ہونے والے حملے میں تقریباً 1,200 لوگ مارے گئے تھے جس کے نتیجے میں جنگ شروع ہوئی تھی، اور 250 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس نے 30 دیگر کی باقیات کے علاوہ تقریباً 100 یرغمالیوں کو ابھی تک رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں