فلسطین اسرائیل تنازع

جنگ بندی قرارداد کی منظوری کے بعد بھی جنوبی غزہ اسرائیلی بمباری کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی بمباری پچھلی رات بھی جاری رہی ۔ اسرائیلی فوج نے یہ بمباری سلامتی کونسل میں منظور کی گئی حالیہ قرار داد کے بعد کی ہے۔ نیز علاقے میں قحط کے حالات کے باوجود فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کی اپنی خوفناک جنگی مشق جاری رکھی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات بمباری رفح کی طرف کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ غزہ میں اس وقت بے گھر فلسطینیوں کو بھوک اور قحط کا سامنا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ بے گھر اہل غزہ کو بھوک اور قحط سے بچانے لکے لیے فضا سے خوراک پھینکنا جاری رکھے گا۔

اب تک قحط کی وجہ سے 18 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے بھوک سے بچنے کے لیے امدادی ٹرک سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے 115 فلسطینیوں کو ایک ہی واقعے میں ہلاک کر دیا تھا۔

عینی شاہدوں کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات اسرائیلی فوج کی طرف سے پھینکے گئے آگ کے گولوں سے رات کے وقت رفح کا آسمان روشن ہو گیا۔ اور بعد ازاں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

واضح رہے اس وقت رفح شہر میں تقریباً 15 لاکھ بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ یہ لوگ غزہ میں بمباری کے دوران رفح کی طرف دھکیل دیے گئے تھے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی رات دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں اور رفح کے شمال میں غزہ شہر سے بھی دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔ خیال رہے اسرائیلی فوج نے 'الشفا ' ہسپتال میں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے حملہ شروع کر رکھا ہے۔ جہاں اب تک سینکڑوں افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔

وزارت صحت نے غزہ میں نے بدھ کی صبح بتایا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں رات کے دوران 66 افراد قتل ہو گئے۔ ان نئے ہلاک ہونےوالے 66 فلسطینی شہریوں میں رفح اور اس کے آس پاس اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے تین فلسطینی بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فورسز نے خان یونس کے دو اسپتالوں کو بھی گھیرے میں لے لیا ہے، جہاں وزارت صحت نے کہا کہ بے گھر افراد کے کیمپ پر اسرائیلی حملے میں کچھ بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے۔ فلسطینی ہلال احمر نے خبردار کیا ہے کہ خان یونس کے ناصر ہسپتال میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کی جانوں کو خطرہ ہے۔

انسانی ساختہ قحط

اسرائیلی جنگ میں پھنسے شہریوں کی مایوسی کا ذکر کرتے ہوئے حماس نے پیراشوٹ سے خوراک پھینکنے کے سلسلے کو روکنے کا کہا ہے ۔ واضح رہے بحیرہ روم کے ساحل پر سمندر سے پیراشوٹ کے ذریعے خوراک کی امداد لینے کی کوشش میں کم از کم 12 فلسطینیوں کے ڈوب جانے کے افسوسناک واقعے کے بعد حماس نے متعلقہ ملکوں سے مطالبہ کیا ہے پیراشوٹوں کے ذریعے خوراک نہ پھینکی جائے۔

سوئٹزر لینڈ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے نے بھی اطلاع دی ہے کہ خوراک کا حصول کی کوشش کرتے ہوئے چھ افراد بھگدڑ میں مارے گئے ہیں۔ غزہ کے رہائشی محمد السباوی نے کہا 'خوراک کے ایک ایک ڈبے کے حصول کے لیے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں۔'

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ ' غزہ میں زمینی راستے سے بڑی تعداد امدادی ٹرکوں کو آنے کی اجازت دی جائے ۔ تاکہ لوگوں کو قحط سے مرنے سے بچایا جا سکے۔ ' اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے قائم ادارے یونیسیف کا بھی کہنا ہے کہ غزہ میں فضائی اور بحری ذرائع سے خوراک اور امدادی سامان لانے کے بجائے زمینی راستے سے خوراک کے ٹرک غزہ لائے جائیں تاکہ قحط سے اموات کو روکا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں