سعودی عرب: چار ہزار ٹرینیز کو تربیت دینے کے لیے 3 میڈیا اکیڈمیز کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے انکشاف کیا ہے کہ وزارت نے 3 ہم آہنگ میڈیا اکیڈمیاں قائم کی ہیں جن کا مقصد 2 سال کے اندر 4000 سے زائد ٹرینیز کو 3 تعلیمی ٹریکس کے ذریعے تربیت دینا ہے، جن میں 50 نظریاتی اور عملی مضامین اور خصوصی پروگرام شامل ہیں۔ اس پروگرام کو بڑی بین الاقوامی یونیورسٹیوں کا تعاون حاصل ہوگا۔

انہوں نے کل شام ریاض میں اپنے دوسرے ایڈیشن میں "سحور الاعلام " میٹنگ کے دوران کہا کہ یہ کام 3 تعلیمی ٹریکس کے ذریعے ہوگا، جس میں 50 نظری اور عملی مضامین اور خصوصی پروگرام ہوں گے، جو بڑی بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت میں ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت اس شعبے میں تیزی سے عالمی ترقی کی روشنی میں مصنوعی ذہانت کے شعبوں سے فائدہ اٹھانے اور اس میں تعاون کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ سعودی میڈیا مصنوعی ذہانت کے مرکز کے طور پر ایک اہم کھلاڑی ہوگا نہ کہ تماشائی۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کو قومی تعاون کے ساتھ قائم کیا گیا تھا اور جنریٹیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کیمپ سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (Sdaya) کے اشتراک سے قائم کیا گیا تھا جس میں 2,000 سے زیادہ نوجوان مرد اور خواتین کو جدید اندرونی اور بیرونی پروگراموں اور کورسز میں تربیت دی گئی تھی۔

2024میڈیا کی تبدیلی کا سال

وزیر اطلاعات نے اس موقع پراپنے خطاب میں کہا کہ "میڈیا سحر ایک سالانہ روایت بن چکی ہے جس میں ہم خیالات کو اپناتے ہیں، کل کے امید وار کی خصوصیات کھینچتے ہیں۔ میڈیا سسٹم کے شراکت داروں، میڈیا کے رہ نماؤں سے ملاقات کرتے ہیں۔ اداروں اور ادارہ جاتی مواصلات میں کام کرنے والے اور وزارت اور دلچسپی رکھنے والے افراد اور ماہرین کے درمیان رابطے کو فروغ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات میڈیا کی تبدیلی کے سال 2024 میں ہے۔ اس نےمیڈیا سیکٹر میں تبدیلی کے حصول کے لیے اسے "حکمت عملی اور ترجیحات" کا عنوان دیا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 2000 سے زائد نوجوان مرد و خواتین کو جدید داخلی اور خارجی پروگراموں اور کورسز میں تربیت دی گئی۔ مستقبل کی خبریں الہامی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے لکھی جائیں گی اور سعودی ڈریم کے نام سے ایک بڑی اسکرین پر دکھائی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں