حماس کے بعد کا غزہ ، محمود عباس نے فلسطینی اتھارٹی اصلاحاتی عمل شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی دباؤ کے ماحول میں فلسطینی اتھارٹی کے 19 سال سے صدارت پر فائز 88 سالہ محمود عباس نے فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں جنگ کے بعد کے منظر نامے کے حوالے سے اصلاحات شروع کر دی ہیں۔ امکان ہے کہ ماہ اپریل میں اس سلسلے میں بڑی پیش رفت ہو گی۔

محمود عباس نے 15 مارچ کو مصطفیٰ محمد کو فلسطینی اتھارٹی کا صدر مقرر کیا ہے، تاہم توقع ہے اس سلسلے کو وہ جلد مکمل کرلیں گے اور باقی عہدوں پر بھی نامزدگیاں کریں گے، کیونکہ امریکہ ان سے اس سلسلے میں بعد از حماس کے منظر نامے کے لیے تیزی سے کام لینا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ماہ جنوری میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر کو اس سلسلے میں ہدایت کی تھی۔ بلنکن ماہ جنوری میں بھی اپنے بظاہر جنگی پھیلاؤ کے مشنا پر پانچویں دورے پر مشرق وسطیٰ آئے تھے۔ انہوں نے رام اللہ سمیت دوسرے عرب ملکوں میں بھی اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا تھا ، نیز حوثیوں کے خلاف امریکی قیادت میں اتحاد کے ایشوز بھی زیر بحث آئے تھے۔

بلنکن نے صدر محمود عباس سے مغربی کنارے اور غزہ کے اکٹھ کو فلسطینیوں کے حق میں قرار دیا تھا کہ یہ ایک ہی اقتدار کے نیچے ہو۔ اس امریکی خواہش کے بعد 88 سالہ محمود عباس نے فلسطینی اتھارٹی میں خالی عہدوں پر تعیناتی کا سوچنا شروع کیا ۔ ڈپٹی سپیکر حسن خریشیہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں صرف وزیر اعظم کی نامزدگی کافی نہیں ہو گی۔ باقی عہدوں پر بھی تعیناتیاں کرنا ہوں گی۔ ڈپٹی سپیکر کے بقول امریکی اس سلسلے میں مزید چاہتے ہین۔

واضح رہے 2007 کے برد سے فلسطینیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کا موقع نہیں دیا گیا کہ اس وقت حماس نے اکثریتی ووٹ حاصل کر کے حماس مخالف قوتوں کو چوکنا کر دیا کہ اگر الیکشن اسی طرح جاری رہے تو حماس ہر بار عوامی ووٹوں کے ساتھ آگے آتی رہے گی۔ اس لیے جمہوری عمل کو روک کر کے فلسطینی اتھارٹی پر ایک طرح سے محمود عباس اور ان کے ساتھیوں کا اختیار تسلیم کر لیا گیا۔ اس لیے 19 سال سے محمود عباس ہی فلسطینی اتھارٹی کے صدر ہیں۔

انہیں 2005 میں فلسطینی اتھارٹی کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔۔ انہیں سیاسی طور پر حماس کا حریف سمجھا جاتا ہے۔ حماس کے خلاف غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 32414 فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اسرائیل حماس کے مکمل خاتمے کے ہدف کے لیے اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے۔ تاہم ابھی تک حماس کی طرف سے مزاحمت جاری ہے۔

عرب اور مغربی قوتیں بی چاہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات ہوں اور حماس کے بعد کے منظر کی طرف پیش رفت ہو۔ مغربی سفارت کار ابھی مطمئن نہیں ہیں کہ اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہے۔

نئے نامزد کیے گئے وزیر اعظم انہتر سالہ مصطفیٰ محمد صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے رکن نہیں ہیں۔ مبصرین پنڈت اسے سیاسی اصلاحات کے سلسلے میں ایک چھوٹے سے ثبوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کیونکہ محمود عباس 2009 سے بغیر صدارتی انتخابات کے اس منصب پر موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں