احتجاجی کارکن کی ہلاکت پر ایرانی عدالت نے پولیس افسر کو سزائے موت سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی ایک عدالت نے بدھ کے روز پولیس کے مقامی سربراہ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ 2022 کے مشہور زمانہ احتجاج کے دوران ایک احتجاجی کارکن کی ہلاکت کے مقدمے میں سنایا گیا ہے۔ پولیس افسر پر احتجاجی کارکن کی ہلاکت کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا۔

بتایا گیا ہے کہ پولیس کے مقامی سربراہ جعفر جوانمردی نے مہسا امینی کی پولیس کے زیر حراست ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دنوں میں ایک شہری کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس احتجاجی کارکن کی ہلاکت کا مقدمہ جعفر جوانمردی کے خلاف اسلامی قانون کے مطابق ایک مقامی عدالت میں چلایا گیا۔

مہران سمک نامی مقتول کے لواحقین کے وکیل ماجد احمدی کے مطابق اسلامی عدالت قصاص کے اسلامی قانون کے مطابق پولیس افسر پر مجرم ثابت ہونے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

واضح رہے 27 سالہ مہران سمک 30 نومبر کو ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک تھا کہ اسے شارٹ گن سے نشانہ بنایا گیا جس سے وہ زخمی ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ ایران کے شمالی شہر انزالی میں اس وقت پیش آیا تھا جب مہران دوسرے مظاہرین کے ساتھ 22 سالہ مہسا امینی کی زیر حراست ہلاکت کے خلاف احتجاج میں شریک تھا۔

انسانی حقوق سے متعلق ایک غیر ملکی ادارے کے مطابق مقتول مہران سمک نے فٹ بال کے ورلڈ کپ میں ایرانی ٹیم کی شکست پر خوشی سے اپنی گاڑی کے ہارن بجائے تھے اور شور مچا مچا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ یہ نوجوان مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد احتجاجیوں میں شامل تھا اس لیے قطر ورلڈ کپ میں ایران کی شکست پر خوشی سے پر جوش تھا۔

ورلڈ کپ میں ایران کو ملنے والی اس شکست کے بعد ایرانی ٹیم ورلڈ کپ سے ہی آؤٹ ہو گئی تھی۔ تاہم اس ایرانی شکست پر ایران کے حامیوں اور مخالفین میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا تھا۔

جنوری 2024 میں خبر آئی تھی کہ ایرانی سپریم کورٹ سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس ایک دوسری عدالت کو بھجوا دیا تھا۔ تاہم اب عدالت نے پولیس افسر کے لیے سزائے موت کے پرانے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

ایرانی صوبہ گیلان کے بندر گاہی شہر انزالی میں مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف 2022 کے دوران سخت احتجاج کیا گیا تھا ۔ اس ملک گیر احتجاج کے باعث ایران ہل کر رہ گیا تھا۔ واضح رہے ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران سینکڑوں مظاہرین مارے گئے تھے اور ہزاروں گرفتار کر لیے گئے تھے۔ جبکہ فسادات کے دوران درجنوں سیکیورٹی اہلکار اور پولیس والے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ ان مظاہروں اور فسادات سے متعلق مقدمات میں اب تک 9 افراد کو پھانسی ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں