فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل رفح حملے کے منصوبے پر امریکی حکام سے بات چیت کے لیے وفد بھیجنے پر رضا مند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اپنے فیصلے سے رجوع کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس سے درخواست کی ہے کہ مشاورت کے لیے اسرائیل کے اعلیٰ سطح کے وفد کے لیے اگلے ہی ہفتے میں فوری وقت دیا جائے۔ اسرائیل رفح میں اسرائیلی فوج کے حملے کے لیے ضروری مشاورت کے لیے وفد بھیجنا چاہتا ہے۔

اسرائیل نے پیر کے روز اقوام متحدہ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی قرارداد روکنے کے لیے امریکہ کے ویٹو استعمال نہ کرنے پر بطور احتجاج و ناراضگی اپنے اعلیٰ وفد کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ یہ اعلان وزیر اعظم نیتن یاہو نے کیا تھا۔ انہوں نے امریکہ پر الزام بھی لگایا تھا کہ 'امریکہ نے اسرائیل کی غزہ جنگ کے بارے میں اپنی پالیسی سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔'

اس غصے کو جواز بناتے ہوئے نیتن یاہو نے اعلیٰ سطح کا وفد امریکہ بھیجنے کا پہلے سے موجود فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ لیکن بدھ کے روز ہی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دوبارہ اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکہ سے رجوع کا فیصلہ کرتے ہوئے ناراضگی کا تاثر ختم کر دیا پے۔

اس بارے میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین جین پیئیر نے رپورٹرز کو بتایا ہے ' اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اسرائیلی وفد کے لیے نیا شیڈول بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ لہذا ہم نے نئے شیڈول کے لیے مل کر کام شروع کر دیا ہے۔ تاکہ دونوں کے موزوں وقت طے ہو سکے۔ '

ایک امریکی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ' اسرائیلی وفد کی اگلے ہفتے کے شروع میں ہی آمد ہو سکتی ہے، اس سلسلے میں وقت طے کیا جارہا ہے۔' تاہم اس بارے میں نیتن یاہو کے دفتر نے ابھی میڈیا کے سامنے اس بارے میں کچھ نہیں بولا ہے۔

تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی وفد جس کی امریکہ روانگی جلد ممکن بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس وفد کی قیادت اسرائیلی سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈیرمر اور قومی سلامتی کے مشیر ذاچی ہنگبئی کریں گے۔ مذاکرات کا اہم ترین موضوع 15 لاکھ فلسطینی بے گھروں کی پناہ گاہ رفح پر اسرائیلی حملے کی حکمت عملی اور تعاون پر اتفاق ہے۔ تاکہ دونوں اتحادیوں کے درمیان تعاون میں کمی کا اندیشہ نہ رہے۔

اس بارے میں وائٹ ہاؤس نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ رفح حملے کی حکمت عملی کے حوالے سے کئی متبادل تجاویز شئیر کرے گا تاکہ حماس کا غزہ سے مکمل خاتمہ ممکن ہو جائے۔ واضح رہے امریکی صدر جوبائیڈن جو ماہ نومبر میں دوبارہ صدارتی امیدوار ہیں انہیں صرف اپنے اتحادیوں کے دباؤ کا سامنا نہیں ہے بلکہ امریکہ میں اپنی ہی جماعت ڈیموکریٹ کے ممبران اور حامیوں کی طرف سے بھی غزہ میں جنگی پالیسی کے امور پر دباؤ کا سامنا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے اسی دوران امریکہ میں اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ وسیع تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس دوران یہ موضوع بھی اہم رہا کہ کس طرں دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان مقامی چیلنجوں کے باوجود تعلقات میں بہتری رہے اور بیانات سے دو طرفہ درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہو۔ تاہم اسرائیلی کابینہ کے رکن ہونے کے باوجود یواو گیلنٹ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے بہت وفادار قسم کی شخصیت نہیں ہیں۔ ان کے برعکس متوقع اسرائیلی وفد کےقائدین نیتن یاہو کے زیادہ بھروسے کے لوگ ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں