اسرائیل غزہ میں بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے خلاف جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ پرہجوم فلسطینی غزہ کی پٹی خاص طور پر شمال میں بہت سے لوگوں میں قحط کے پھیلاؤ کے بین الاقوامی انتباہات کے بعد اقوام متحدہ نے اسرائیل پرسخت تنقید کی ہے۔

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے زور دیا کہ اسرائیل غزہ میں بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اس پر یقین کرنے کی "منطقی" وجوہات ہیں۔

انہوں نے آج جمعرات کو برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا اگر اسرائیل کا ایسا کرنے کا ارادہ ثابت ہو جائے تو یہ معاملہ "جنگی جرائم" کے مترادف ہے۔

امداد کی فراہمی میں سستی

اقوام متحدہ کے کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی آمد میں کمی یا رکاوٹ ڈالنے کا "بڑا ذمہ دار" ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "انسانی حقوق کی صورتحال اس قدر افسوسناک ہے کہ اس کے لیے فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے"۔

گذشتہ پیر کو اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ کی پٹی میں ’بھوک کو‘ ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے فوری طور پر روکنا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیل سے بین الاقوامی قراردادوں پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی طرح دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بھی ماضی میں یہ اشارہ دیا ہے کہ اسرائیل آبادی کو بھوکا مارنے کی کوشش میں جان بوجھ کر امداد کے داخلے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ قحط سے اب محصور اور تباہ شدہ پٹی کی زیادہ تر آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق مطابق ان کی تعداد 2.4 ملین ہے۔

جنگ اور تباہی کے نتیجے میں زیادہ تر آبادی بھی بے گھر ہو کر جنوب کی طرف نقل مکانی کر گئی جبکہ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ کے شمالی علاقوں میں رہنے والوں میں سے تقریباً تین لاکھ ایسے ہیں جو سب سے زیادہ بھوک، پانی کی قلت خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور ان تک پہنچنا مشکل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں