سعودی عرب نے دو سال میں 1450 الیکٹرک کاریں درآمد کیں:کسٹمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے محکمہ زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز کی جانب سے ’العربیہ نیٹ‘ کوبتایا ہےکہ سعودی عرب کی الیکٹرک کاروں کی کل درآمدات گذشتہ دو سال 2022-2023ء کے دوران 1,450 الیکٹرک گاڑیوں تک پہنچ گئیں۔

تاہم کسٹمز اتھارٹی نے برآمد کنندہ ممالک کے بارے میں نہیں بتایا۔ سعودی عرب میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب مملک کاربن کے صفر کے اخراج کے ساتھ ماحول دوست نقل و حمل کے نظام کو فروغ دینے کے پروگرام کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کی طرف ایک قابل ذکر اسٹریٹجک نقطہ نظر کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

"الیکٹرک گاڑیوں" میں دلچسپی کی رفتار کو دوگنا کرنے کی خواہش سے متاثر ہو کرسعودی عرب نے ان کاروں کے تصور کو بڑھانے اور اپنے صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ سعودی عرب نے ’سیر‘ کے نام سے ایک الیکٹرک کار کمپنی قائم کی ہے جو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سے منسلک ہے، جس سے قومی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 562 ملین ریال کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔

جی ڈی پی میں اس کا براہ راست حصہ 30 ارب ریال تک پہنچ جائے گا اور یہ 2034ء تک 30,000 ملازمتیں فراہم کرے گا۔

پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر "سیر" سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں جدید تکنیکی نظاموں سے لیس "الیکٹرک کاریں" ڈیزائن کرے گی جیسا کہ سیڈان اور چار پہیوں والی گاڑیاں ہیں۔

اسی کمپنی نے اس سے قبل کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں تقریباً 5ارب ریال کی مالیت کے ساتھ "الیکٹریکل گاڑیوں کی صنعت کے لیے سیر کمپلیکس" کے قیام کا منصوبہ ایک سعودی کمپنی کو دیا تھا۔

"استعمال کو بڑھانے" کے لیے عملی ڈیٹا

معاملہ یہاں تک محدود نہیں بلکہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے الیکٹرک وہیکل انفراسٹرکچر کمپنی قائم کی تاکہ اپنی نوعیت کا بہترین انفراسٹرکچر فراہم کیا جاسکے اور تیز رفتار چارجنگ پوائنٹس کا ایک قومی نیٹ ورک قائم کیا جائے جو الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو قابل بنائے اور اس کی حوصلہ افزائی کرے۔

دوسری جانب ’آلات‘ کمپنی کا حالیہ قیام جسے فنڈ نے قائم کیا تھا الیکٹرک کاروں کے لیے نئے معیارات کو بڑھانے کے خیال کو تقویت دیتا ہے۔

الیکٹرک کار فیکٹری

ان سب سے پہلے الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی لوسیڈ نے کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں اپنی فیکٹری کا آغاز کیا، جس سے تقریباً 5000 گاڑیاں تیار ہوں گی، جو آہستہ آہستہ 150,000 تک پہنچ جائیں گی۔

یہ اپنی پہلی اور جدید بین الاقوامی مینوفیکچرنگ سہولت میں اپنی الیکٹرک کاروں کو اسمبل کرنا شروع کر دے گی۔

ان عملی اعداد و شمار کے ساتھ ریاض الیکٹرک کاروں کے استعمال کی طرف بڑھنے کے خیال کو تقویت دیتا ہے خاص طور پر چونکہ اس کے پاس قابل ذکر اجزاء جیسے کہ ضابطے اور قانون سازی بنیادی ڈھانچہ اور دھاتوں کی صنعت کے علاوہ ایک اسٹریٹجک مقام اور بندرگاہیں ہیں جودنیا کے مختلف ممالک کو برآمدات کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

25 فی صد فروخت کا فیصد

سعودی انڈسٹریل ڈیولپمنٹ فنڈ کی رپورٹ جس کا عنوان ’2022ء کے لیے "الیکٹرک وہیکل مارکیٹ" ہے توقع کرتی ہے کہ نئی کاروں کی فروخت کے "تناسب" کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 2030 تک 25 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ رپورٹ کے مطابق پرامید توقعات کو حاصل کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے صارفین کی بیداری بڑھانے کے علاوہ ان گاڑیوں کے لیے چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جانا چاہیے۔

الیکٹرک کاریں کیوں؟

اسی رپورٹ کی روشنی میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ہم روایتی گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک کاریں کیوں خریدیں؟‘‘

جواب کے عناصر یہ ہیں کہ یہ آپ کو ایک ہی چارج پر 600 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کی قابل ذکر حد کو فاصلہ طے کرنے کے قابل بناتا ہے جو ریاض اور دمام کے شہروں کے درمیان فاصلے سے کہیں زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ گاڑی کی بیٹری کو 20 منٹ میں چارج کرنے کی صلاحیت 10 فی صد سے 80 فی صد تک ہوتی ہے۔

الیکٹرک کاریں ماحول کو محفوظ رکھنے، سبز معیشت کو ترقی دینے، معیار زندگی کو بلند کرنے اور ماحول کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

جب کہ الیکٹرک کاروں کی آپریٹنگ لاگت روایتی کاروں کے ایندھن کی لاگت سے زیادہ اقتصادی طور پر قابل عمل سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر روزانہ کے سفر کے دوران، موٹر پارٹس کے معاملے میں بھی ان کی قیمتیں دیکھ بھال کے اخراجات کے لحاظ سے کم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں