کیا فضائی امداد غزہ کو بھوک سے بچانے میں ناکام رہی؟

ایئر ڈراپس ایک عارضی اور آسان اقدام ہیں، لیکن یہ حل نہیں ہیں: محقق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جنگ سے تباہ ہونے والے شمالی غزہ کے باشندے بھوک اور قحط کے ماحول میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے سامان سے لدی مختلف رنگو کی چھتریوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ کالی ، سرمئی اور گلابی چھتریوں کو طیاروں سے گرایا گیا ہے۔ نیچے موجود خوراک کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والے لوگ ان چھتریوں کے گرنے ک مقامات کی طرف دوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن فضا سے کھانے کے پیکجز کو اس طرح زمین پر گرانے نے ایک نیا تنازع کھڑا دیا ہے خاص طور پر جب ان چھتریوں کی وجہ سے 18 افراد جان سے چلے گئے ہیں۔

سال 2007 سے غزہ کی حکمران کرنے والی تنظیم حماس نے ان کارروائیوں کو "فوری طور پر روکنے" اور کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سمندر میں گرنے والے پیکجوں کو نکالنے کی کوشش کے دوران 12 افراد کے ڈوب کر موت کے منہ میں جانے اور بھگدڑ کے نتیجے میں چھ افراد کے دنیا سے رخصت ہوجانے جیسے واقعات سے بچا جاسکے۔ ستائیس سال کے عدی ناصر نے ڈوبنے والوں کے بارے میں بتایا کہ سمندر بپھرا ہوا تھا اور ان لوگوں کو تیرنا نہیں آتا تھا۔

عینی شاہدین اور طبی ذرائع کے مطابق 8 مارچ کو بھی شاطئی پناہ گزین کیمپ پر "راکٹوں" کی مانند گرنے والے پیکجوں کی وجہ سے 5افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے تھے۔ اس وقت چھتری نہ کھلنے سے کھانے کے پیکج براہ راست نیچے گرنے سے نقصان ہوا تھا۔

غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ان تمام ملکوں کو خبردار کیا ہے جو فضا سے امداد گرا رہے ہیں کہ یہ غلط طریقہ ہے۔ اس دوران خوراک کا کچھ حصہ سمندر میں گر جاتا ہے اور کچھ حصہ سال 1948 میں قبضہ کئے گئے علاقوں یعنی موجودہ اسرائیل میں گر جاتا ہے۔ اس سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

امریکی فضائیہ کے ایک لیفٹیننٹ کرنل جیریمی اینڈرسن نے امداد گرانے کے مشن کے دوران ایجنسی فرانس پریس کو وضاحت کی کہ بنیادی تشویش زمین پر موجود لوگوں کی حفاظت ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ اگر پیراشوٹ نہ کھلے یا سمندر میں گرجائے تو نقصان سے کیسے بچا جائے۔

ایئر ڈراپس فروری میں اسرائیل کے زیر کنٹرول غزہ کراسنگ کے ذریعے پٹی میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے اس وقت شروع کئے گئے جب قحط نے پوری پٹی خاص طور پر شمالی حصے کو لپیٹ میں لینا شروع کیا۔

غزہ میں اسرائیلی بربریت کو شروع ہوئے 173 دن بیت چکے ہیں۔ اس دوران سات روز کی عارضی جنگ بندی بھی ہوئی تھی۔ صہیونی وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک 32490 فلسطینی شہید ہوچکےہیں۔ شہدا میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بھی شہید ہوچکے ہیں اور ان کی لاشیں ملبے تلے دبی ہیں۔

اردنی، مصری، فرانسیسی، امریکی، اور دیگر ممالک کے طیارے عطیہ دینے والے ملکوں جیسے متحدہ عرب امارات، فرانس، بیلجیم، جرمنی، امریکہ اور سپین کے جھنڈوں پر مشتمل خوراک کے پیکج غزہ کی زمین پر گرا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے مطابق یہ طریقہ کار زمینی نقل و حمل کی جگہ نہیں لے سکتا تاہم سانحہ کا پیمانہ اتنا بڑا ہے کہ کسی بھی طرح بھیجی گئی امداد کا خیرمقدم کیا جائے گا بشرطیکہ یہ بحفاظت پہنچ جائے۔

زمینی گزرگاہوں کو کھولنے اور پابندیوں کو کم کرنے کے مطالبات بڑھ رے ہیں لیکن اسرائیل نے اس دوران کی یو این کی امدادی ایجنسی (انروا) کو غزہ کے شمال میں جانے سے روک دیا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل روزانہ کم از کم 500 ٹرک پٹی میں داخل ہوتے تھے اور آج کل یہ تعداد اوسطا تقریباً 150 ہے۔

ایک امریکی تھنک ٹینک اسرائیل پالیسی فورم کی ایک محقق شیرا ایفرون کا خیال ہے کہ ایئر ڈراپس ایک عارضی اور آسان اقدام ہیں، لیکن یہ اس کا حل نہیں ہیں۔ ان ایئر ڈراپس سے حقیقت میں کچھ نہیں بدل رہا تاہم یہ ایئر ڈراپس اسرائیل پر بالواسطہ دباؤ کا ایک چھوٹا سا ذریعہ ہیں۔

قبرص سے سمندری راہداری کے قیام کے بعد سے 15 مارچ کو ایک بحری جہاز 200 ٹن خوراک لے کر غزہ پہنچا تھا۔ یونیسیف ترجمان نے بتایا کہ غزہ کے ساتھ سرحد پر مصر کی جانب سینکڑوں ٹرک غزہ میں داخل ہونے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں