’مصر تمہارے باپ کی جاگیر نہیں‘ علاء مبارک ٹرمپ کے داماد کے متنازعے بیان پربرس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے بیٹے علاء مبارک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینیر مشیر جیرڈ کشنرکے غزہ کے واٹر فرنٹ پرقبضے اور فلسطینی ریاست کی مخالفت پرمشتمل بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

علاء مبارک نے کل بدھ کو "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "جیرڈ کشنر نے ایک چونکا دینے والا اور اشتعال انگیز بیان جو جذبات کو ابھارتا، فلسطینی عوام کے حقوق کو نظر انداز کرتا، ایک پرامن اور منصفانہ حل کے حصول سے دور ہے جو سلامتی، امن اور استحکام کی ضمانت دے سکے‘۔ یہ ایک سیاسی نوجوان کے الفاظ ہیں جب وہ کہتا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا خیال ایک بُرا خیال ہے اور غزہ میں واٹر فرنٹ سرمایہ کاری کا ایک موقع ہے‘۔

"نفرت انگیز بیانات"

انہوں نےکشنر کے ان بیانات کو قابل نفرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "کشنر غزہ سے سب سے بڑی تعداد میں لوگوں کو نکالنے، انہیں جزیرنما نقب یا مصر منتقل کرنے، غزہ کے واٹر فرنٹ پر اعلیٰ قیمتی جائیدادیں بنانے کی بات کر رہا ہے گویا یہ اس کے باپ کی جاگیر ہے"۔

یہ تنقیدیں کشنرکے ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک سمپوزیم کے دوران بیانات کے بعد سامنے آئیں، جو 8 مارچ کو منعقد ہوا تھا۔ اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں واٹر فرنٹ "انتہائی قیمتی" ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "وہاں کی صورت حال افسوسناک ہے لیکن اگر میں اسرائیل کی جگہ ہوتا تو میں لوگوں کو منتقل کرنے اور چیزوں کو ختم کرنے کی پوری کوشش کرتا"۔ انہوں نے سات اکتوبر کےحملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرنا دہشت گردی کی کارروائی کا بدلہ ہو گا"۔

ان بیانات نے سوشل میڈیا پر خاص طور پر تنازعے کو جنم دیا۔

مصر اور دیگر عرب ممالک غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی سخت مخالفت کررہے ہیں۔ تمام عرب ممالک جزیرہ سینا یا جزیرہ نما النقب سمیت دیگر علاقوں میں فلسطینیوں کی منتقلی کی مخالفت کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں