غزہ میں قحط ظاہر ہو چکا ہے: عالمی عدالت انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے جمعرات کے روز متفقہ طور پر اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام ضروری اور موثر اقدامات کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بنیادی خوراک کی فراہمی بلا تاخیر غزہ میں پہنچ جائے۔ عدالت نے کہا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو قحط کے پھیلاؤ کی روشنی میں زندگی کے مشکل حالات کا سامنا ہے۔

قحط پہلے ہی ظاہر ہو چکا

ججوں نے کہا کہ عدالت نے نوٹ کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو اب صرف قحط کے خطرے کا سامنا نہیں ہے بلکہ یہ قحط پہلے ہی ظاہر ہو چکا ہے۔ جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر درخواست میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس درخواست کے ایک حصہ میں غزہ میں بھوک اور قحط کے حالات پر ان نئے اقدامات کی درخواست بھی کی ہے۔

لڑائی کے 174 ویں دن غزہ کی پٹی کو اسرائیلی فوج اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان فضائی حملوں، گولہ باری اور لڑائیوں کا سامنا رہا۔ صہیونی فورسز کے حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے۔ حماس نے کہا کہ ایک جانب اسرائیل نے ایک وفد واشنگٹن بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تو دوسری جانب وہ رفح پر زمینی حملے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔

صحت کا نظام تباہ

24 لاکھ افراد کی آبادی والی پٹی میں ناکہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے نتیجے میں ہونے والے تباہ کن انسانی بحران کی روشنی میں اقوام متحدہ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ شمالی غزہ میں قحط قریب ہے۔ مختلف علاقوں تک رسائی پر عائد کردہ پابندیوں کے تسلسل کی وجہ سے صحت کا نظام تباہ ہو رہا ہے۔

فائرنگ اور دھماکے

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ہے حال ہی میں امل ہسپتال، شفا ہسپتال اور ناصر میڈیکل کمپلیکس میدان جنگ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ ان تینوں ہسپتالوں میں جاری فوجی کارروائیوں کے بارے میں انتہائی پریشان کن رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔ ریڈ کراس نے طبی عملے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

ریڈ کراس نے کہا اس کے عملے کو روزانہ درجنوں کالز موصول ہوتی ہیں لیکن وہ اکثر کالز کا جواب نہیں دے پاتے ہیں۔ شہریوں کو نکالنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر تنازع کے فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ اسرائیل غزہ میں قابض طاقت کے طور پر شہریوں کے تحفظ اور زندہ رہنے کے لیے ضروری بنیادی خدمات تک ان کی رسائی کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔

لڑائی کے 174 دن

حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد جنگ شروع ہوئی تھیے۔ سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,160 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت تقریباً 250 افراد کو بھی اغوا کیا گیا تھا جن میں سے 130 اسرائیلی اب بھی غزہ میں یرغمال ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ ان یرغمالیوں میں سے بھی 34 کی موت ہوچکی ہے۔ سات اکتوبر سے ہی اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری شروع کردی تھی۔ صہیونی فورسز اس جنگ کے 174 دنوں میں غزہ کی پٹی میں 32552 فلسطینیوں کو شہید اور 74980 کو زخمی کرچکی ہیں۔ غزہ کی پٹی کی 70 فیصد عمارتیں مکمل یا جزوی تباہ ہوچکی ہیں۔ پٹی کے مختلف علاقوں سے 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے رفح میں پناہ لی ہے اور اب اسرائیل رفح پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں