فلسطینی اتھارٹی کابینہ کی تشکیل مکمل

نامزد وزیر اعظم کے پاس وزارت خارجہ کا قلمدان بھی ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی اتھارٹی کے نئے نامزد کردہ وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے اپنی کابینہ تشکیل دے دی ہے وزارت خارجہ کا قلم دان بھی وزیر اعظم نے اپنے نام کر لیا۔ جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ پہلے سے جڑے بعض افراد کو بھی کابینہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ کابینہ کی تشکیل کا یہ عمل جمعرات کو مکمل کیا گیا ہے۔

اس موقع پر نامزد وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے کہا ہے ان کی ترجیحات میں غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا ہو گا۔ محمد مصطفیٰ 2005 میں منتخب ہو کر اب تک چلے آرہے 87 سالہ صدر محمود عباس کے اعتماد کے آدمی ہیں۔ کاروباری اعتبار سے اس اہم نام کو محمود عباس نے اسی ماہ کے شروع میں وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔

محمود عباس دنیا کے طاقتور ملکوں میں قبولیت رکھتے ہیں۔ اس لیے مسلسل فلسطینی اتھارٹی کے اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہیں۔ پچھلے 19 سال سے وہ اس عہدے پر انتخاب کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ اب انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کو انتظامی اعتبار سے زیادہ متحرک بنانے اور عالمی سطح سے جاری مطالبات کی روشنی میں نیا وزیر اعظم اور اور کابینہ دے دی ہے۔

اس کابینہ میں وزیر خزانہ عمر البطار جبکہ محمد العمور فلسطینی بزنس ایسوسی ایشن کے صدر مقرر کیے گئے ہیں۔ چانی الذکر اقتصادی امور کے وزیر بھی ہوں گے۔ وزیر داخلہ مقرر کی گئی شخصیت زیاد حب الریح ہیں وہ پہلے فلسطینی اتھارٹی میں انٹیلی جنس چیف کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ علاوہ جنگ اور مصیبت زیادہ فلسطینیوں بشمول پناہ گزینی فلسطینیوں کے امور کو چلانے کے لیے ایک وزیر مملک بعد ازاں مقرر کیا جائے گا۔

نئے وزیر اعظم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا ' فلسطینیوں کی بحالی اور تعمیر نو کے عمل کے آغاز کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی دہشت گردانہ کارروائیاں روکنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کی تعمیر روکیں گے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں