ہم رفح میں داخلے کی تیاری کر رہے: نیتن یاہو کی یرغمالیوں کے اہل خانہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال فوجیوں کے اہل خانہ کو مطلع کیا ہے کہ اسرائیل رفح میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ اپنے کسی فوجی کو وہاں نہیں چھوڑے گا۔ اخبار نے نیتن یاہو کے دفتر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف فوجی دباؤ ہی زیر حراست افراد کی رہائی کی ضمانت دے گا۔ یاہو نے کہا مسلسل فوجی دباؤ ڈال رہے ہیں اور یہ جاری رکھیں گے، یہی دباؤ یرغمالیوں کی واپسی کی ضمانت دیتا ہے۔

امریکہ اور عالمی برادری کی تنقید اور رفح پر حملے سے بازرہنے کی تنبیہ کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم اپنی ضد پر قائم ہیں اوررفح پر حملے کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل رمضان المبارک کے بعد رفح پر حملہ کی تیاری کر رہا ہے۔ واشنگٹن اسرائیل کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکہ ہفتوں سے اسرائیل کو زمینی راستے سے رفح میں داخل ہونے کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے اسرائیل سے متبادل منصوبوں پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ۔ متبادل منصوبوں میں بے گھر شہریوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کی شرط پر کچھ علاقوں میں محدود حملے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا واشنگٹن کی منظوری ہو یا نہیں وہ اس آپریشن کے لیے آگے بڑھیں گے۔

جنگ بندی کا فیصلہ

خیال رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو غزہ میں "فوری جنگ بندی" کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد منظور کی تھی۔ امریکہ نے ویٹو کا سہارا لے کر سابقہ تین قرار دادوں کو روکنے کے بجائے اس مرتبہ قرار داد منظور ہونے دی تھی۔ تاہم اس نے قرار داد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں