اردن میں غزہ جنگ کے خلاف مظاہروں میں شدت، اسرائیلی سفارتخانہ بند کرنے کا مطالبہ

مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت اسرائیل کے ساتھ غیرمقبول امن معاہدے کو ختم کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پچھلے کئی دنوں سے اردن کے دارالحکومت عمان میں ہونے والے مظاہرے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں جمعرات کا دن مظاہروں کا مسلسل پانچواں دن تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں اردنی شہری مظاہرے میں شریک ہوئے۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت اسرائیل کے ساتھ غیرمقبول امن معاہدے کو ختم کرے۔

مظاہرین فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ وہ مسلسل کہہ رہے تھے 'اردن کی سرزمین پر صیہونی سفارتخانہ نہیں چاہیے۔' ان کا مطالبہ تھا کہ عمان میں قائم اسرائیلی سفارتخانے کو بند کیا جائے اور 1994 سے اسرائیل کے ساتھ قائم کیے گے سفارتی تعلقات کو ختم کیا جائے۔

مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے کتبوں میں تحریر کر رکھا تھا 'عمان اور غزہ کی منزل ایک ہے' ان میں سے کئی مظاہرین نے ایسے ماسک پہن رکھے تھے جو حماس کے فوجی ترجمان ابوعبیدہ کے چہرے کی شبیہ لیے ہوئے تھے۔ ابوعبیدہ کو عرب دنیا میں بہت سے لوگ ایک قومی ہیرو کے طور پر لیتے ہیں۔

واضح رہے عمان میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر مظاہرین کا یہ احتجاج پچھلے مسلسل پانچ دنوں سے جاری ہے۔ جہاں وہ ہر روز جمع ہوتے ہیں تاکہ غزہ میں بڑھتی ہوئی تباہی کے خلاف اپنا احتجاج سامنے لا سکیں۔

جمعرات کے روز اس سلسلے میں اردنی حکام نے غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات کیے تھے۔ تاہم مظاہرین مکمل پر امن رہے۔ اس سے پہلے اسی ہفتے کے شروع میں اردنی پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کیا تھا اور انہیں سخت تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ تاکہ وہ اسرائیلی سفارتخانے کی طرف نہ بڑھیں۔

پولیس کے تشدد کے باوجود اس روز بہت سے مظاہرین منتشر ہو کر آس پاس کی گلیوں میں احتجاجاً بیٹھ گئے تھے اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جمعہ کی صبح تک گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔ اردنی حکام نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے بہت ساروں کو گرفتار کیا اور بہت ساروں کو زدوکوب کیا۔ 'ایمنیسٹی انٹرنیشنل' نے اردنی پولیس کی طرف سے کیے گئے تشدد کی مذمت کی کہ شہریوں کو پر امن احتجاج سے روکنا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

اردن کے شہریوں میں غزہ کے فلسطینیوں کی ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتوں، وسیع پیمانے پر تباہی اور بھوک و قحط سے فلسطینیوں کے مرنے کی خبروں نے اردنی شہریوں میں تشویش اور غم و غصہ کی شدت بڑھا دی ہے۔ بہت سارے اردنی شہری فلسطینی النسل ہیں اور ان کی رشتہ داریاں بھی موجود ہیں۔ اس لیے ان کے سامنے فلسطینیوں کا اس طرح مارا جانا سخت تکلیف دہ ہے۔

اردن کے حکام کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کی ہر کسی کو اجازت ہے۔ تاہم تشدد کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے اسرائیل کے خلاف کسی غم و غصے کو بڑھکانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں