اسرائیلی وزیر دفاع کی غزہ میں عرب فورس تعینات کرنے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو سینیر اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اس ہفتے واشنگٹن کے اپنے دورے کے دوران غزہ کی پٹی میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ایک کثیر القومی فوج کے قیام کے امکان پر بات کی جس میں عرب ممالک کی افواج شامل ہوں گی۔

’ایکسیس‘ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے غزہ میں ایک محدود عبوری مدت کے لیے عرب فورس تعینات کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ سمندری راہ داری کو محفوظ بنایا جا سکے جسے امریکہ قبرص سے سمندری راہداری کے ذریعے آنے والی امداد حاصل کرنے کے لیے غزہ کے ساحل پر تعمیر کر رہا ہے۔

دونوں عہدیداروں نے اشارہ کیا کہ گیلنٹ نے واشنگٹن سے سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن اور سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے ملاقاتوں میں اس اقدام کے لیے امریکی سیاسی اور مادی حمایت کے لیے کہا، لیکن اس حمایت میں زمین پر امریکی افواج کی تعیناتی شامل نہیں ہے۔

حماس کی حکمرانی کا متبادل

نیوز سائٹ نے کہا کہ سرکردہ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ کثیر القومی ملٹری فورس کی تشکیل غزہ کی پٹی پر حماس کی حکمرانی کا متبادل ہو گی۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ گیلنٹ اقدام کو فروغ دینے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اس پر بات کرنے کی رضامند کرنے کے ساتھ عرب ممالک سے بھی ان کئ رائے معلوم کی جا رہی ہے۔

عرب اہلکار: ہم امن فوج بھیجنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں

گیلنٹ کی تجویز میں شامل ایک عرب ملک کے ایک اہلکار کے حوالے سے بھی کہا گیا کہ عرب ممالک امدادی ٹرکوں کو محفوظ بنانے کے لیے افواج بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے بعد امن فوج بھیجنے پر غور کر سکتے ہیں۔

یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اہلکار جنگ کے بعد غزہ میں استحکام کے حصول کے لیے آپشنز کے بارے میں "ابتدائی بات چیت" کر رہے ہیں، جس میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ پینٹاگان ملٹی نیشنل فورس یا فلسطینی امن دستے کو فنڈ فراہم کرنے میں مدد کرے۔

پینٹاگان کے دونوں عہدیداروں نے واضح کیا کہ ابتدائی منصوبوں کے مطابق امریکی محکمہ دفاع غزہ میں ان سکیورٹی فورسز کے لیے مالی امداد فراہم کرے گا۔

جہاں تک فلسطینیوں کی زیر قیادت امن فوج کی ممکنہ ٹیم کا تعلق ہے یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس کے ارکان کو کون تربیت اور اسلحہ فراہم کرے گا، جس میں تقریباً 20,000 سکیورٹی اہلکار شامل ہو سکتے ہیں جنہیں فلسطینی اتھارٹی کی حمایت حاصل ہے۔

پولیٹیکو کے مطابق واشنگٹن اور اس کے شراکت داروں کے کسی بھی منصوبے پر اتفاق کرنے میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ خاص طور پر چونکہ خطے کے ممالک آپشنز میں سنجیدگی سے مشغول ہونے سے پہلے دو ریاستی حل کے عزم کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ پانچ ماہ کی شدید لڑائی کے بعد تباہ ہونے والی غزہ میں امن برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ فلسطینی قیادت والی فورس کو بروقت تربیت دینے کی فزیبلٹی کے بارے میں بھی سوالات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں