شمالی غزہ میں قحط کے خطرے کو امریکہ نے بھی تسلیم کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی دفتر خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے غزہ میں اسرائیلی جنگ اور مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ کے شہریوں کے قحط میں چلے جانے کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس عہدیدار نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ شمالی غزہ میں قحط کا خطرہ موجود ہے۔

امریکی عہدیدار کا یہ اعتراف اقوام متحدہ کے کئی ہفتوں سے سامنے آنے والی رپورٹوں اور بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔ جن میں مسلسل کہا جا رہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ اور ناکہ بندیوں کے باعث قحط کا شدید خطرہ ہے۔ اب گزشتہ روز اقوام متحدہ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ غزہ میں قحط شروع ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک غزہ کے 18 فلسطینی بھوک اور پیاس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

دفتر خارجہ کے عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے 'ہم بڑے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں غزہ و جنوبی غزہ میں قحط موجود ہے۔ اب شمالی غزہ میں بھی قحط کا خطرہ ہے۔ خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل کو شمالی غزہ کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔'

دفتر خارجہ کے عہدیدار نے مزید کہا '200 ٹرک جنوبی و وسطی غزہ میں امداد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ پچھلے ماہ کے مقابلے میں زیادہ امداد ہے۔ غزہ کے فلسطینیوں کی زندگیوں کے لیے امدادی سامان کی صورت میں انہیں کم سے کم کھانے کی سطح تک لانا اہم ہے۔ تاکہ وہ مرنے سے بچ جائیں۔ یہاں ہر عمر کے لوگوں کی غذائی ضرورت کو پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ نوزائیدہ بچے بھی غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اس کے لیے امدادی سامان میں اضافہ کرنا ہوگا۔'

رفح پر اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی عہدیدار کا کہنا ہے جوبائیڈن انتظامیہ نے اعتراضات اسرائیل تک پہنچا دیے ہیں۔ رفح میں 23 لاکھ بےگھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ حماس کے خاتمے کے لیے اسرائیل متبادل آپشنز اپنا سکتا ہے۔'

جمعرات کے روز امریکہ کے فوجی جنرل نے کہا ہے 'اسرائیل کے رفح پر حملے کے منصوبے کو ہم نے دیکھ لیا ہے۔ اس منصوبے کی حمایت سے پہلے اس کی مزید تفصیلات دیکھی جائیں گی۔' خیال رہے امریکہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا سب سے بڑا حامی اور سہولت کار ہے۔ جیسا کہ 'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی تازہ رپورٹ میں بھی اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کی امریکی منظوری کا ذکر کیا ہے۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی غزہ میں قحط سے متعلق جاری کردہ رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے ذرائع قابل اعتراض ہیں اور کئی غلطیاں ہیں۔ خیال رہے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کی نصف آبادی قحط کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں