صدیوں پرانی مسجد الاحساء کے شاندار ثقافتی ورثے کی نمائش کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الاحساء گورنری کے مشرقی دیہاتوں کے درمیان آباد اور ہفوف سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر الطاحیمیہ گاؤں واقع ہے جو ماضی بعید کی سرگوشیوں سے دیکھنے والوں کو اپنی جانب مائل کرتا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الطاحیمیہ کے تاریخی خزانوں میں الطاحیمیہ الشرقی مسجد ہے جو خطے کے شاندار ورثے کی گواہی کے طور پر ایستادہ ہے۔

عثمانی دور سے تعلق رکھنے والی الطاحیمیہ الشرقی مسجد ایک باقی بچ جانے والی مسجد ہے۔ اس کی مٹی کی دیواریں جزوی طور پر کوہ القارہ کی ڈھلوانوں نے تھامی ہوئی ہیں۔ یہ ایک اور بھی پرانی تاریخ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو گذشتہ زمانے کے تعمیراتی انداز کی بازگشت کرتی ہیں۔

اس کا نام الطاحیمیہ گاؤں کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ دریائے الزہیری کے کنارے واقع ہے۔

الطاحیمیہ الشرقی مسجد نہ صرف الاحساء گورنری سے بلکہ خلیج عرب اور اس سے باہر سے آنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تاریخی طور پر اہم کوہ القارہ سے اس کی قربت اس کی کشش میں اضافہ کرتی ہے۔

زائرین اس کی مخصوص ساخت اور اندرونی حصے کی تعریف کرنے آتے ہیں۔ اکثر جبل القارہ پہاڑوں کے پس منظر میں مسجد کی اور آس پاس کے کھجور کے درختوں کی تصاویر لیتے ہیں۔

مسجد میں تقریباً 50 نمازیوں کی گنجائش ہے اور اس کے باہر وضو کی جگہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں