غزہ میں قحط پھیل جانے سے متعلق یو این رپورٹ پر اسرائیل کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چھ ماہ سے اسرائیل کی فوجی ناکہ بندی، بمباری اور جاری جنگ کے بعد پیدا شدہ قحط کی صورتحال کے بارے میں سامنے آنے والی اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ پر اسرائیل نے اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ جائزہ رپورٹ میں غیر درست مواد شامل ہے۔ اور اس رپورٹ کے ذرائع پر بھی کئی سوالات ہیں۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ غزہ میں بچوں سمیت کئی فلسطینیوں کی بھوک اور پیاس سے ہونے والی ہلاکتوں کے کئی روز بعد سامنے آئی ہے۔ غزہ کے رہنے والے فلسطینیوں کے پاس اپنے اور پانے بچوں کے لیے اتنی خوراک نہیں پہنچ رہی کہ وہ اپنی صبح و شام کی خوراک کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق شمالی غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتحال سنگین تر رہی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے فلسطینیوں کو انسانی بنیادوں پر پہنچائی جانے والی خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رکھی ہیں۔ اور غزہ کی ناکہ بندی میں کوئی کمی نہیں کر رہا۔ بلکہ غزہ کے اس وقت 3 ہسپتال بھی پچھلے کئی دنوں سے اسرائیلی فوج کے حملے اور ناکہ بندی کا سامنا کر رہے ہیں۔

پچھلے ہفتے سامنے آنے والی یو این رپورٹ نے غزہ میں بھوک اور قحط کے حالات پر بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی تشویش کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ کے فلسطینی بھوک اور قحط سے آنے والی تباہی کی زد پر ہیں۔ اس قحط کا زیادہ اثر شمالی غزہ میں نظر آرہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھوک کا جائزہ مرتب کرنے والے ادارے 'انٹرنیشنل فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکشن' (آئی پی سی) نے جائزے میں کہا ہے کہ غزہ کے کم از کم 11 لاکھ شہریوں کو اس وقت بھوک اور قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے مطالبہ کیا ہے کہ 'اسرائیل زیر محاصرہ فلسطینی علاقے میں بلاتعطل خوراک پہنچانے کی اجازت دے۔'

اسرائیلی وزرات دفاع کے تحت کام کرنے والے ایک ادارے نے بھی جنگ کے ان اثرات کو غزہ میں تسلیم کیا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے 'امدادی سامان اور خوراک پہنچانے والے عالمی ادارے ضرورت کے مطابق سامان غزہ پہنچانے کے معاملے کو سنبھال نہیں پا رہے۔'

واضح رہے غزہ میں اسرائیل کی ناکہ بندیوں، خوراک پہنچانے والے قافلوں پر فائرنگ ایسے واقعات اسرائیل کی طرف سے جاری رہتے ہیں جبکہ پچھلے ہفتے سے اسرائیل نے یو این ایجنسی 'اونروا' کے ذریعے سے آنے والی غزہ میں امداد کو مکمل روک دیا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی وزارت دفاع کے ماتحت ادارے 'کوگاٹ' نے اعتراض امدادی اداروں پر کیا ہے۔

'کوگاٹ' نے اس چیز پر بھی اعتراض کیا ہے کہ رپورٹ میں غزہ میں خوراک سے بھرے 500 ٹرکوں کی یومیہ ضرورت ہوتی ہے۔ جنگ سے پہلے اسرائیل کی ناکہ بندی میں یہ صرف 150 پہنچ پا رہے تھے اور اب ہر روز انہیں صرف 60 کی تعداد میں آنے کی اجازت دی جاری ہے۔ یقیناً 500 ٹرکوں کے مقابلے میں 60 امدای ٹرکوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔'

'کوگاٹ' نے اعداد و شمار کی درستگی کرتے ہوئے کہا ہے 'اسرائیل نے جنگ سے پہلے ہی خوراک لانے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد 500 سے مقابلے میں 70 کردی تھئ۔' تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ 'اسرائیل خوراک اور امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔' اسرائیل نے بھوک کی مانیٹنگ سے متعلق بین الاقوامی ادارے 'آئی پی سی' کی رپورٹس کو بھی درست ماننے سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں