فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر عرب امریکیوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے غزہ میں چھ ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر تحفظات اور فلسطینیوں کی عورتوں و بچوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتوں پر عرب امریکیوں کے غم اور درد کو پہلی بار محسوس کیا ہے۔

امریکی عربوں نے صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کریں، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند کریں اور اسرائیلی جنگ کے باعث ہونے والے انسانی بحران کے بعد زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ جو بائیڈن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'عرب امریکیوں کے غزہ جنگ کے حوالے سے درد کو سمجھنے کے لیے جنگ میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کر لینا چاہیے۔'

واضح رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنگ بندی قرردادوں کو امریکہ نے کئی بار ویٹو کیا ہے۔ جبکہ حالیہ پیش کردہ قرارداد میں امریکہ ووٹنگ کے موقع پر موجود نہیں تھا۔ اس قرارداد میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اہم بات ہے کہ جوبائیڈن کے اس اخباری بیان کے سامنے آنے کے صرف چھ گھنٹے بعد 'واشنگٹن پوسٹ' نے رپورٹ کیا ہے کہ 'جو بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کے بموں اور جنگی طیاروں سے متعلق ترسیل پر دستخط کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دستخط حالیہ دنوں ہی کیے گئے ہیں۔

غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہرے حالیہ مہینوں میں کئی امریکی شہروں میں جاری رہے ہیں۔ جن میں نیو یارک، لاس اینجلس اور واشنگٹن شامل ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے، انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

جمعرات کے روز ہونے والی فنڈ ریزنگ مہم اور جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ہونے والے پروگراموں میں یہ مظاہرین مداخلت کرتے ہیں۔ ان مظاہرین نے صدر جو بائیڈن کو کہا ہے کہ مطالبات کو تسلیم کیا جائے ورنہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں اپنی حمایت کھودیں گے۔ تاہم صدر جو بائیڈن نے ابھی ان شدید مطالبات اور مظاہروں کے باوجود مکمل جنگ بندی کی حمایت نہیں کی ہے۔

خیال رہے عرب امریکی سابق امریکی صدر اور جو بائیڈن کے صدارتی حریف ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا رجحان بھی نہیں رکھتے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق عرب امریکی انتخابات میں جو بائیڈن کو ووٹ سے انکار کر سکتے ہیں۔

واضح رہے 2020 کے انتخابات میں صدرجو بائیڈن کی حمایت کی گئی تھی۔

جمعہ کے روز صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر سامان کی ترسیل بڑھانے، یرغمالیوں کی رہائی اور چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر کام کر رہے ہیں۔ جو بائیڈن نے کچھ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عرب شہری امریکہ میں نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بنے ہیں۔ جن میں اکتوبر میں 6 سالہ فلسطینی بچے وڈیہ الفیوم کو چھرا گھونپنے، نومبر میں 3 فلسطینی طالب علموں کو گولی مار کر ہلاک کرنے اور ماہ فروری میں فلسطینی کو چھرا گھونپنے کے واقعات شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں