اسرائیلی مرکزی بنک کے سربراہ نے جنگی اخراجات کے بارے میں مزید وضاحت طلب کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے مرکزی بنک کے سربراہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگی بجٹ میں مزید اضافے کے لیے غیرفوجی اخراجات میں کمی کر کے ذمہ دارانہ مالیاتی پالیسی بنائی جائے۔ مرکزی بنک کے سربراہ کی طرف سے یہ مطالبہ غزہ میں 6 ماہ سے جاری جنگ کے تناظر میں ملکی معیشت پر اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان نے رواں ماہ کے دوران ترمیم شدہ بجٹ کی منظوری دی ہے۔ جس میں غزہ کے مزاحمتی گروپ حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ میں مزید دسیوں ارب شیکلز جھونکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جنگ توقع سے زیادہ طویل ہوتی جا رہی ہے۔ اس لیے اضافی بجٹ کی ضرورت ہے تاکہ جنگی اخراجات پورے ہو سکیں۔

مرکزی بنک کے سربراہ عامر یارون کا کہنا ہے 'اس سلسلے میں ایک ایسی کمیٹی قائم کی جانی چاہیے جو جنگی اور فوج کے سول اخراجات دونوں کا احاطہ کر سکے اور جائزہ لے سکے کہ فوج کے سول اخراجات میں کہاں زیادہ ذمہ داری دکھانے کی ضرروت ہے۔ نیز کمیٹی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آنے والے برسوں میں اسرائیل کی جنگی ضروریات کیا ہیں۔ اس سلسلے میں معیشت پر پڑنے والے اثرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فوجی بجٹ کی تیاری کرنی چاہیے۔'

واضح رہے مرکزی بنک کے 2023 میں ہونے والے سالانہ اجلاس کے دوران اسرائیلی کابینہ اور پارلیمان کے ارکان کو خط لکھا گیا تھا ۔ جس میں مالیاتی ایڈجسمنٹ کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ تاکہ 'جی ڈی پی' کی نسبت سے عوامی قرضوں میں مسلسل اضافے کو روکا جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل نے اگلے سال کے جنگی بجٹ کے لیے 5.4 ارب ڈالر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ جو 20 ارب شیکلز کے برابر ہے۔

اس ترمیم شدہ جنگی بجٹ میں اس بات کی بھی اجازت دی گئی ہے کہ اس میں سے ان لوگوں کو زر تلافی ادا کیا جا سکے جن کا جنگ کی وجہ سے نقصان ہوا ہے یا کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ واضح رہے 7 اکتوبر سے جاری جنگ کے ایسے متاثرین کی کافی تعداد ہے۔

سال 2024 کے 'جی ڈی پی' میں مجموعی خسارے کی سطح 6.6 فیصد سامنے آرہی ہے۔ جبکہ جنگ سے پہلے یہ شرح 2.25فیصد تھی۔ ماہ فروری میں 'جی ڈی پی' کا یہ خسارہ پچھلے ماہ کے مقابلے میں بڑھ کر 5.6 فیصد ہو گیا ہے۔ جبکہ جنوری میں یہ خسارہ 4.8 فیصد تھا۔

مرکزی بنک کے سربراہ یارون نے کہا 'جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معیشت کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ خاص طور پر کارکنوں کی کم پیداواری صلاحیت اور بنیادی مہارتوں میں کمزوری سے معاشی چیلنج میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے الٹرا آرتھوڈوکس یہودی خواتین اور مردوں کو مزدورں کے شعبے میں اپنی اجرتوں کا بوجھ ڈالنے سے روک دیا ہے۔'

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں معیشت میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ فی کس 'جی ڈی پی صفر رہی۔ بنک سربراہ کے مطابق 'ملکی معیشت کی اچھی بنیادوں کے ساتھ جنگ کا آغاز ہوا تھا۔

ماضی میں پیش آنے والے بحرانوں کے مقابلے میں صورتحال زیادہ پریشان کن نہیں بنی۔ تاہم پھر بھی ضرورت ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ معاشی پالیسیاں وضع کی جائیں۔ بنیادی معاشی چیلنجوں سے نمٹنے اور معیشت کی ترقی کے عوامل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تاکہ پائیدار ترقی کا حصول ممکن ہو سکے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں