اسرائیل فلسطینیوں کی آزاد ریاست کی ضرورت کا ادراک کرے: یورپی یونین

فلسطینیوں کو اپنا آزاد وطن نہ ملا تو اس کے نتیجے میں تباہی کے اثرات برسوں تک ختم نہیں ہوں گے:یورپی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جیسے جیسے ہی غزہ کی پٹی میں جنگ اپنے ساتویں مہینے کے قریب پہنچ رہی ہے اسرائیل پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کے معاون اینریک مورا نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیل کو علم ہونا چاہیے کہ فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد وطن کا قیام ضروری ہے ورنہ حتمی تباہی ہو گی اور فلسطینی ہمیشہ کے لیے نکبہ کی حالت میں رہیں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے کا اثر ہر ایک پر دہائیوں تک پڑے گا۔

انہوں نے ’ؔایکس‘ پلیٹ فارم پر کہا کہ "مجھے یقین نہیں ہے کہ آیا اسرائیلی حکام کو یہ احساس ہے کہ یہ ایک اہم موڑ ہوگا جس کے بعد پرانی حکمت عملی ختم ہو جائے گی"۔

یورپی عہدیدار نے مزید کہا کہ "یا تو فلسطینیوں کے لیے ایک وطن یعنی ایک ریاست ہوگی یا وہ ہمیشہ کے لیے نکبہ کی حالت میں رہیں گے۔ اگر فلسطینیوں کو ان کا آزاد وطن نہ ملا تو اس کے اثرات دھائیوں تک محسوس کئے جائیں گے اور تمام فریق اس سے متاثر ہوں گے۔

اسرائیل گذشتہ اکتوبر کی سات تاریخ سے غزہ کی پٹی پر اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی بمباری میں مزید 80 شہری مارے گئے۔ جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 32,705 ہو گئی ہے جب 75,190 زخمی ہوچکے ہیں۔ جاں بحق اور زخمیوں میں زیادہ تربچے اور خواتین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں