حماس کے سینئر رہنماؤں کو مار ڈالا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے "شفا میڈیکل کمپلیکس" کا نام خبروں کی سرخیوں سے غائب نہیں ہوا۔ خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے اس کمپلیکس میں حماس کے ارکان کی موجودگی کے الزامات کے بعد اس کی جانب توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔

دھاوں اور حملوں کے ایک سلسلے کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کردیا ہے کہ اس نے کمپلیکس میں کئی افراد کو مار دیا ہے۔ صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے اس نے کمپلیکس میں کی گئی کارروائیوں کے دوران حماس کے سینئر رہنماؤں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے یہ بات سوشل میڈیا پر بتائی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتہ کو کہا کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں متعدد کارروائیاں کی ہیں جس میں اس کے دعوے کے مطابق درجنوں فلسطینی عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی غزہ کی پٹی میں الامل کے علاقے میں دیگر عسکریت پسندوں کو بھی مار دیا گیا ہے۔

تاہم حماس نے ابھی تک اسرائیل کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ حماس نے اپنے کسی رہنما کے شہید ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس سے قبل پیرکو بھی اسرائیل نے شفا ہسپتال میں اسی طرح کی کارروائیاں کی تھیں اور 90 فلسطینیوں کو مار ڈالنے اور 160 دیگر افراد کو گرفتار کرنے کا کہا تھا۔ اس وقت اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے اہلکار شفاء ہسپتال کے علاقے میں جنرل سکیورٹی سروس کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔

یہ اعلان کوئی انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ جنگ کے آغاز سے ہی یہ میڈیکل کمپلیکس زمینی کارروائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے بار بار شفا ہسپتال پر دھاوا بولا گیا ہے۔ صہیونی فورسز اپنے حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حماس شفا ہسپتال کے تہ خانے کو استعمال کر رہی ہے۔ حماس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل اسرائیل نے شفا کمپلیکس کو حماس کی جانب سے فوجی کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کے شواہد پیش کیے۔ تاہم امریکی رپورٹس میں اس پر سوال اٹھائے گئے تھے اور نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ یہ اسرائیلی ثبوت الزامات کی سطح تک نہیں پہنچتے۔

7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے ایک ہفتے تک محاصرہ کرنے کے بعد 16 نومبر کو شفا پر حملہ کیا۔ پھر 8 دن کے بعد ہسپتال سے دور ہوگیا۔ اس دوران ہسپتال کا صحن، اس کی عمارتوں کے مختلف حصے اور طبی آلات تباہ ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے ہسپتال کے بجلی کے جنریٹر کو بھی تباہ کردیا تھا۔ اس وقت اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے حماس سے متعلق 55 میٹر لمبی سرنگ ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں